دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 397

دعوت الامیر — Page 26

دعوة الامير مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَيْ لَا يَمُوتُ ( بخاری کتاب المناقب باب قول النبي صلى الله عليه وسلّم لو كنت متخذا خلیلا)۔یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک رسول ہیں۔آپ سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں، پھر اگر آپ فوت ہو جائیں یا قتل ہو جا ئیں تو کیا تم لوگ اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے۔تحقیق تو بھی فوت ہو جائے گا اور یہ لوگ بھی فوت ہو جائیں گے۔اے لوگو! جو کوئی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی پرستش کرتا تھا وہ سن لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا اسے یادر ہے کہ اللہ زندہ ہے اور وہ فوت نہیں ہوتا۔جب آپ نے مذکورہ بالا دونوں آیات پڑھیں اور لوگوں کو بتایا کہ رسول اللہ فوت چکے ہیں تو صحابہ پر حقیقت آشکار ہوئی اور وہ بے اختیار رونے لگے اور حضرت عمر خود بیان فرماتے ہیں کہ جب آیات قرآنیہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی وفات ثابت کی تو مجھے یہ معلوم ہوا کہ گویا یہ دونوں آیتیں آج ہی نازل ہوئی ہیں اور میرے گھٹنوں میں میرے سر کو اٹھانے کی طاقت نہ رہی۔میرے قدم لڑکھڑا گئے اور میں بے اختیار شدتِ صدمہ سے زمین پر گر پڑا۔( بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ) اس روایت سے تین امور ثابت ہوتے ہیں۔اول یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر سب سے پہلے صحابہ کا اجماع اسی امر پر ہوا تھا کہ آپ سے پہلے سب انبیاء فوت ہوچکے ہیں، کیونکہ اگر صحابہ میں سے کسی کو بھی یہ شک ہوتا کہ بعض نبی فوت نہیں ہوئے تو کیا اُن میں سے بعض اسی وقت کھڑے نہ ہو جاتے کہ آپ آیات سے جو استدلال کر رہے ہیں یہ درست نہیں، کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو چھ سو سال سے آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں۔پس یہ غلط ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سب نبی فوت ہو چکے ہیں اور جب کہ ان میں سے بعض زندہ ہیں تو کیا وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نہ رہ سکیں۔