دعوت الامیر — Page 24
(r) دعوة الامير علیہ وسلم کی وفات کے بعد سب سے پہلا اجماع ہی انہوں نے اس مسئلہ پر کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں چنانچہ کتب احادیث اور تواریخ میں یہ روایت درج ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا صحابہ" پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ گھبرا گئے اور بعض سے تو بولا بھی نہ جاتا تھا اور بعض سے چلا بھی نہ جاتا تھا اور بعض اپنے حواس اور اپنی عقل کو قابو میں نہ رکھ سکے اور بعض پر تو اس صدمہ کا ایسا اثر ہوا کہ وہ چند دن میں گھل گھل کر فوت ہو گئے۔حضرت عمر" پر اس صدمہ کا اس قدر اثر ہوا کہ آپ نے حضور کی وفات کی خبر کو باور ہی نہ کیا اور تلوار لے کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں تو میں اسے قتل کر دوں گا آپ تو موسیٰ علیہ السلام کی طرح بلائے گئے ہیں جس طرح وہ چالیس دن کے بعد واپس آگئے تھے اسی طرح آپ کچھ عرصہ کے بعد واپس تشریف لائیں گے اور جو لوگ آپ پر الزام لگانے والے ہیں اور منافق ہیں ان کو قتل کریں گے اور صلیب دیں گے اور اس قدر جوش سے آپ اس دعوے پر مُصر تھے کہ صحابہ میں سے کسی کو طاقت نہ ہوئی کہ آپ کی بات کو رد کرتا اور آپ کے اس جوش کو دیکھ کر بعض لوگوں کو تو یقین ہو گیا کہ یہی بات درست ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے اور ان کے چہروں پر خوشی کے آثار ظاہر ہونے لگے اور یا تو سر ڈالے بیٹھے تھے یا خوشی سے انہوں نے سر اٹھالئے۔اس حالت کو دیکھ کر بعض دور اندیش صحابہ نے ایک صحابی کو دوڑایا کہ وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جو اس وجہ سے کہ درمیان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کچھ اچھی ہو گئی تھی آپ کی اجازت سے مدینہ کے پاس ہی ایک گاؤں کی طرف گئے ہوئے تھے جلد لے آئیں۔وہ چلے ہی تھے کہ حضرت ابوبکر ان کو مل گئے اُن کو دیکھتے ہی ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور جوش گریہ کو ضبط نہ کر سکے۔