دعوت الامیر — Page 234
(tre) دعوة الامير طبع لوگوں کا شہر ہے بازاروں میں سے جب وہ گزرتے تھے تو جہاں تک نظر جاتی تھی لوگ اُن کے ادب اور احترام کی وجہ سے کھڑے ہو جاتے اور ہند و وغیرہ غیر مذاہب کے لوگ بھی مسلمانوں کا ادب دیکھ کر اُن کا ادب کرتے تھے اور جس جگہ جاتے لوگ اُن کو آنکھوں پر بٹھاتے اور حکام اعلیٰ جیسے گورنر و گورنر جنرل اُن سے عزت سے ملتے تھے مگر اس فتوے کے شائع کرنے کے بعد بغیر کسی ظاہری سامان کے پیدا ہونے کے ان کی عزت کم ہونی شروع ہوئی اور آخر یہاں تک نوبت پہنچی کہ خود اس فرقے کے لوگوں نے بھی اُن کو چھوڑ دیا جس کے وہ لیڈر کہلاتے تھے اور میں نے اُن کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اسٹیشن پرا کیلے اپنا اسباب جو وہ بھی تھوڑا نہ تھا، اپنی بغل اور پیٹھ پر اُٹھائے ہوئے اور اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے چلے جا رہے ہیں اور چاروں طرف سے دھکے مل رہے ہیں۔کوئی پوچھتا نہیں۔لوگوں میں بے اعتباری اس قدر بڑھ گئی کہ بازار والوں نے سودا تک دینا بند کر دیا۔دوسرے لوگوں کی معرفت سود امنگواتے اور گھر والوں نے قطع تعلق کر لیا ، بعض لڑکوں نے اور بیویوں نے ملنا جلنا چھوڑ دیا، ایک لڑکا اسلام سے مُرتد ہو گیا، غرض تمام قسم کی عزتوں سے ہاتھ دھو کر اور عبرت کا نمونہ دکھا کر اس دنیا سے رخصت ہوئے اور اپنی زندگی کے آخری ایام کی ایک ایک گھڑی سے اس آیت کی صداقت کا ثبوت دیتے چلے گئے کہ قُلْ سِيرُوا فِى الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (الانعام: ۱۲) آپ کے دشمنوں کی ہلاکت کی دوسری مثال کے طور پر میں چراغ دین ساکن جموں کو پیش کرتا ہوں ، پیشخص پہلے حضرت اقدس کے ماننے والوں میں سے تھا مگر بعد کو اس نے دعوی کیا کہ وہ خود دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوا ہے اور آپ کے خلاف اس نے