دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 397

دعوت الامیر — Page 235

۲۳۵ دعوة الامير کئی رسائل اور مضامین شائع کئے اور آخر جب اس سے بھی تسلی نہ ہوئی تو آپ کے خلاف دعا کی اور اس دعا کو لکھ کر شائع کرنے کا ارادہ کیا ، اس دعا کا یہ مضمون تھا کہ:۔اے خدا! تیرادین اس شخص (یعنی حضرت اقدس ) کی وجہ سے فتنے میں ہے اور یہ شخص لوگوں کو ڈراتا ہے کہ طاعون میرے ہی سبب سے نازل ہوئی ہے اور زلزلے بھی میری ہی تکذیب کا نتیجہ ہیں تو اس شخص کو جھوٹا کر اور طاعون کو اب اُٹھالے تا کہ اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے اور حق اور باطل میں تمیز کر دے۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۸۸-۳۹۲(مفہوم)) یہ دُعا لکھ کر اس نے چھپنے کو دی لیکن خدا تعالیٰ کی گرفت کو دیکھئے کہ مضمون دُعا کی کا پیاں لکھی جا چکی تھیں مگر ابھی پتھر پر نہیں جمائی گئی تھیں کہ وہی طاعون جس کے اُٹھائے جانے کی دُعا اس نے اس لئے کی تھی تا کہ حضرت اقدس کا یہ دعوی باطل ہو جائے کہ طاعون میری صداقت کے ثبوت کے لئے پھیلائی گئی ہے اُس نے اس کے گھر پر آکر حملہ کیا اور پہلے تو اس کے دو بیٹے کہ وہی اس کی اولاد تھے طاعون میں گرفتار ہو کر مر گئے اور اس کی بیوی اس کو چھوڑ کر کسی اور شخص کے ساتھ بھاگ گئی اور لڑکوں کی موت کے بعد وہ خود بھی طاعون ہی کی مرض میں مبتلاء ہو کر مر گیا اور مرتے وقت یہ کہتا تھا کہ اب تو خدا نے بھی مجھے چھوڑ دیا۔اس شخص کی موت نے بھی پر شوکت الفاظ میں اس امر پر گواہی دی کہ ماموروں کی مخالفت معمولی چیز نہیں۔جو جلد یا بدیر عذاب الہی میں مبتلاء کرتی ہے۔چراغ دین جھونی کے سوا اور بیبیوں شخص ایسے ہیں جنہوں نے آپ کے خلاف دعا ہائے مباہلہ کیں اور بہت جلد اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آگئے۔جیسے کہ مولوی غلام دستگیر قصوری۔یہ شخص حنفیوں میں سے ایک بہت بڑا عالم اور صاحب رسوخ آدمی تھا۔اس نے بھی آپ کے خلاف دُعا