دعوت الامیر — Page 233
(rrr) دعوة الامير اور جوحضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے بچپن کے واقف تھے اور جنہوں نے آپ کی تصنیف براہین احمدیہ کی اشاعت پرایک زبر دست ریویو لکھا تھا اور اس میں آپ کی خدمات کو بے نظیر قرار دیا تھا جب آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو یہ مولوی صاحب بگڑ گئے اور سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ شاید کتاب براہین احمدیہ پر جو میں نے ریویو لکھا تھا اُس پر اُن کے دل میں عجب پیدا ہو گیا ہے اور یہ بھی اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ گئے ہیں اور اس خیال سے انہوں نے یہاں تک لکھدیا کہ یہ میرے ریویو پر نازاں ہے۔میں نے ہی اس کو بڑھایا ہے اور میں ہی اس کو اب گرا دوں گا۔یہ عزم کر کے یہ مولوی صاحب اپنے گھر سے نکلے اور ہندوستان کے ایک سرے۔سے دوسرے سرے تک کا دورہ کیا اور بیسیوں علماء سے گفر کا فتویٰ لیا اور یہاں تک اُن فتوؤں میں لکھوا لیا کہ یہ شخص ہی کا فرنہیں بلکہ اس کے مرید بھی کافر ہیں بلکہ جو شخص اُن سے کلام کرے وہ بھی کا فر ہے اور جو شخص اُن کو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے۔اس فتوے کو تمام ہندوستان میں چھپوا کر شائع کیا اور خیال کیا کہ اس زبر دست حملے سے میں نے ان کو ذلیل کر دیا، مگر اس بیچارے کو کیا معلوم تھا کہ آسمان پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ وَلَقَدِ اسْتَهْزِئَ بِرُسُلٍ مِن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِينَ سَخِرُوْا مِنْهُم مَّا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (الانعام: (۱۱) اور اسی طرح اس کے قدوسی پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ اپنی مُهِينْ مَّنْ اَرَادَاهَا نَتَگ میں اس کی ہتک کرونگا جو تیری ہتک کا رادہ کرے گا۔اے بادشاہ ! ابھی بہت عرصہ اس فتوے کو شائع ہوئے نہیں گزرا تھا کہ ان مولوی صاحب کی عزت لوگوں کے دلوں سے اللہ تعالیٰ نے مٹانی شروع کی۔اس فتوے کی اشاعت سے پہلے اُن کو یہ عزت حاصل تھی کہ لاہور دارلخلافہ پنجاب جیسے شہر میں جو آزاد