دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 397

دعوت الامیر — Page 145

(iro) دعوة الامير صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی کیا تھا اس وقت حضرت ابوبکر اپنے ایک دوست کے گھر پر تشریف رکھتے تھے۔وہیں آپ کی ایک آزاد لونڈی نے اطلاع دی کہ آپ کے دوست کی بیوی کہتی ہے کہ اس کا خاوند اس قسم کا نبی ہوگیا ہے جس قسم کا نبی موسیٰ کو بیان کرتے ہیں۔آپ اسی وقت اُٹھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پر تشریف لے گئے اور آپ سے دریافت کیا، آپ نے فرمایا، میں خدا کا رسول ہوں، حضرت ابوبکر نے اس بات کو سنتے ہی آپ کے دعوی کو تسلیم کر لیا چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آپ کے ایمان کے متعلق فرماتے ہیں مَا دَعَوْتُ أَحَداً إِلَى الْإِسْلَامِ الأَكَانَتْ عِنْدَهُ كَبَوَةً وَنَظَرْ وَتَرَدُدْ الأَمَا كَانَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ مَاعَكُمَ عَنْهُ حِيْنَ ذَكَرْتُ لَهُ (البدايةو النهاية لابو الفداء الحافظ ابن كثير الجزء الثالث صفحہ ۲۷ مطبوعہ بیروت ۱۹۲۲ء) یعنی میں نے کسی کو اسلام کی طرف نہیں بلا یا مگر اس کی طرف سے کچھ روک اور فکر اور تر ڈ ظاہر ہوا لیکن ابوبکر کے سامنے جب اسلام پیش کیا تو وہ بالکل متردد نہیں ہوا بلکہ اس نے خود اسلام کو قبول کر لیا۔یہ کیا چیز تھی جس نے حضرت ابوبکر کو بغیر کسی نشان کے دیکھے رسول کریم پر ایمان لانے کے لئے مجبور کر دیا۔یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کانفس ناطقہ تھا جو اپنی سچائی کا آپ شاہد ہے۔حضرت خدیجہ ، حضرت علی اور حضرت زید بن حارث بھی اسی دلیل کو دیکھ کر ایمان لائے بلکہ حضرت خدیجہ نے تو نہایت وضاحت سے اس دلیل کو اپنے ایمان کی وجہ کے طور پر بیان بھی کیا ہے، جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غار حرا میں فرشتہ نظر آیا اور آپ نے آکر حضرت خدیجہ سے گل واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِی۔کہ میں اپنی جان کے متعلق ڈرتا ہوں، تو اس وقت حضرت خدیجہ رضی الله عنها لے زرقانی جلد اول صفحه ۴