دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 397

دعوت الامیر — Page 144

دعوة الامير گندے سے گندا ہو گیا، یا تو کبھی آدمیوں پر جھوٹ نہ باندھا تھا یا اب اللہ پر جھوٹ باندھنے لگا، اس قدر تغیر اور اس قدر تبدیلی کی کیا قانون قدرت میں کہیں بھی مثال ملتی ہے؟ ایک دو دن کی بات ہوتی تو تم کہہ دیتے کہ تکلف سے ایسا بن گیا۔سال دو سال کا معاملہ ہوتا تو تم کہتے ہمیں دھوکا دینے کو اس نے یہ طریق اختیار کر رکھا تھا مگر ساری کی ساری عمر تم میں گزار چکا ہوں ، بچپن کو تم نے دیکھ لیا ، جوانی کو تم نے مشاہدہ کیا، کہولت کا زمانہ تمہاری نظروں کے سامنے گزرا، اس قدر تکلف اور اس قدر بناوٹ کس طرح ممکن تھی، بچپن کے زمانے میں جب اپنے بھلے برے کی بھی خبر نہیں ہوتی۔میں نے بناوٹ کس طرح کی جوانی جود یوانی کہلاتی ہے اس میں میں نے قریب سے اپنی حالت کو کس طرح چھپایا، آخر کچھ تو سوچو کہ یہ فریب کب ہوا اور کس نے کیا اور اگر غور وفکر کر کے میری زندگی کو بے عیب اور بے لوث ہی نہ پاؤ بلکہ تم اسے نیکی کا مجسمہ اور صداقت کی تمثال دیکھو تو پھر سورج کو دیکھتے ہوئے رات کا اعلان نہ کرو اور نور کی موجودگی میں ظلمت کے شاکی نہ بنو، تم کو میرے نفس کے سوا اور کس دلیل کی ضرورت ہے؟ اور میرے پچھلے چال چلن کو چھوڑ کر اور کس حجت کی حاجت ہے؟ میرا انفس خود مجھ پر گواہ ہے اور میری زندگی مجھ پر شاہد ہے اگر تم میں سے ہر شخص اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھے تو اس کا دل اور اس کا دماغ بھی اس امر کی شہادت دے گا کہ صداقت اس میں قائم ہے اور یہ صداقت سے قائم ہے راستی کو اس پر فخر ہے اور اس کو راستی پر فخر ہے۔یہ اپنی سچائی ثابت کرنے کے لئے دوسری چیزوں کا محتاج نہیں اس کی مثال آفتاب آمد دلیل آفتاب کی سی ہے۔یہی وہ زبردست دلیل ہے جس نے ابوبکر کے دل میں گھر کر لیا اور یہی وہ طاقتور دلیل ہے جو ہمیشہ صداقت پسندلوگوں کے دلوں میں گھر کرتی چلی جائے گی ، جب آنحضرت