دعوت الامیر — Page 64
دعوة الامير ہے۔بعض چھوٹی چھوٹی قو میں ان امور کی وجہ سے بڑی بڑی حکومتوں کو شکست دے دیتی ہیں اور اگر یہ باتیں نہ ہوں تو بڑے بڑے لشکر بھی کمزور اور بے فائدہ ہوتے ہیں۔پس بہتر ہوتا کہ مسلمان اپنی حفاظت کے لئے ان سامانوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے نہ کہ جہاد کے غلط معنی لیکر اسلام کو بدنام کرتے اور خود بھی نقصان اٹھاتے کیونکہ جب لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ کوئی قوم اپنے مذہب کی آڑ میں دنیا وی جنگیں کرتی ہے تو سب اقوام اس کی مخالفت میں اکٹھی ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ اس سے ایک ایسا خطرہ محسوس کرتی ہیں جس سے عادل سے عادل حکومت بھی محفوظ نہیں رہ سکتی ، ہر ایک غیر مذہب کی حکومت خیال کر لیتی ہے کہ میں اس سے کتنا ہی اچھا معاملہ کروں مجھے اس سے امن حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کی جنگ ظلم یا فساد کی بناء پر نہیں بلکہ مذہب کے اختلاف کی بناء پر ہے۔غرض ہم جہاد کے منکر نہیں ہیں بلکہ جہاد کے ان غلط معنوں کے مخالف ہیں جن سے اس وقت اسلام کو سخت صدمہ پہنچا ہے اور ہمارے نزدیک مسلمانوں کی ترقی کا راز اس مسئلے کے سمجھنے میں مخفی ہے اگر وہ اس امر کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ جہاد کبیر قرآن کریم کے ذریعہ ہوسکتا ہے ، نہ کہ تلوار سے اور اگر وہ سمجھ لیں کہ مذہب کا اختلاف ہرگز کسی کی جان یا اس کے مال یا اس کی آبرو کو حلال نہیں کر دیتا تو ان کے دلوں میں اسی قسم کے تغیرات پیدا ہو جائیں جن سے خود بخود ان کو سیدھے راستے پر قدم مارنے کی طرف توجہ ل فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِيْنَ وَجَاهِدْهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (الفرقان: ۵۳) فَإِنِ اعْتَزَلُوْ كُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوْ كُمْ وَالْقَوْا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلاً (النساء: ١ ٩) وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِيْنَ يَقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (البقره: ١٩١) لَا يَنْهَكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِى الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَتَقْسِطُوا إِلَيْهِمُ انَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الممتحنة: 9)