دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 397

دعوت الامیر — Page 63

۶۳ دعوة الامير جود دو مسلمان قوموں میں بھی آپس میں ہوسکتی ہے۔یہ ظالمانہ جنگ جو بعض دفعہ ڈا کہ اور خونریزی سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوتی ، بدقسمتی سے غیر مذاہب سے مسلمانوں میں آئی ہے۔ورنہ اسلام میں اس کا نام ونشان تک نہیں تھا اور سب سے زیادہ اس عقیدے کی اشاعت کا الزام مسیحیوں پر ہے جو آج سب سے زیادہ اس کی وجہ سے مسلمانوں پر معترض ہیں۔قرون وسطی میں اس قسم کی مذہبی جنگوں کا اس قدر چر چا تھا کہ سارا یورپ اسی قسم کی جنگوں میں مشغول رہتا تھا اور ایک طرف یہ مسلمانوں کی سرحدوں پر اسی طرح چھاپے مارتے رہتے تھے جس طرح آج نیم آزاد سرحدی قبائل ہندوستان کی سرحدوں پر حملے کر رہے ہیں اور دوسری طرف یورپ کی ان قوموں پر حملے کر رہے تھے جو اس وقت تک مسیحیت میں داخل نہیں ہوئی تھیں اور ان ظالمانہ حملوں میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی سمجھتے تھے۔معلوم ہوتا ہے جیسا کہ قاعدہ ہے غصے میں آکر انسان کی عقل پر پردہ پڑ جاتا ہے۔مسلمانوں نے مسیحیوں کی ان حرکات سے متاثر ہو کر خود بھی انہیں کی طرح چھاپے مارنے شروع کر دیئے ہیں اور اپنے مذہب کی تعلیم کو آخر کار بالکل ہی بھلا بیٹھے ہیں۔حتی کہ وہ زمانہ آ گیا کہ وہی جو ان کے استاد تھے ان پر اعتراض کرنے لگ گئے۔مگر افسوس یہ ہے کہ باوجود اعتراضوں کے پھر بھی مسلمان نہیں سمجھتے۔آج ساری دنیا میں اسلام کے خلاف یہی ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے مگر مسلمانوں کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور وہ برابر دشمن کے ہاتھ میں تلوار پکڑا رہے ہیں کہ اسے لو اور اسلام پر حملہ کرو، وہ نہیں دیکھتے کہ یہ ظالمانہ جنگیں جن کا نام جہاد رکھا جاتا ہے اسلام کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان پہنچارہی ہیں۔وہ کونسی طاقت ہے جس نے اس ہتھیار کے ذریعے فتح پائی ہو۔جنگ میں تعداد کام نہیں آیا کرتی بلکہ ہنر اور انتظام اور تعلیم اور سامان اور جوش اور دوسری قوموں کی ہمدردی کام آتی