دعوت الامیر — Page 258
۲۵۸ دعوة الامير رکھتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا کلام بھی اپنے اندر بے انتہاء معانی اور معارف رکھتا ہے اگر ایک مکھی جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے نہایت ادنی درجہ رکھتی ہے ہر زمانے میں اپنی پوشیدہ طاقتوں کو ظاہر کرتی ہے اور اس کی بناوٹ کے رازوں اور اس کے خواص کی وسعت اور اس کی عادات کی تفاصیل کا علم زیادہ سے زیادہ حاصل ہوتا جاتا ہے چھوٹے چھوٹے گھانس اور پودوں کے نئے سے نئے خواص اور تاثیر میں معلوم ہوتی جاتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام محمد ود ہو۔کچھ مدت تک تو لوگ اس میں سے معانی اور معارف اخذ کریں اور اس کے بعد وہ اس کان کی طرح ہو جائے جس کا خزانہ ختم ہو جاتا ہے۔اللہ کا کلام تو مادی اشیاء کی نسبت زیادہ کثیر المعانی اور وسیع المطالب ہونا چاہئے ، اگر نئے سے نئے علوم دنیا میں نکل رہے ہیں، اگر فلسفہ اور سائنس تیزی کے ساتھ ترقی کرتے چلے جاتے ہیں اگر طبقات الارض اور علم آثار قدیمہ اور علم افعال الاعضاء اور علم نباتات اور علم حیوانات اور علم ہیئت اور علم سیاسیات اور علم اقتصاد اور علم معاملات اور علم النفس اور علم روحانیات اور علم اخلاق اور اسی قسم کے نئے علوم یا تو نئے دریافت ہورہے ہیں یا انہوں نے پچھلے زمانے کے علوم کے مقابلہ میں حیرت انگیز ترقی حاصل کرلی ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کا کلام ہی ایسا را کد ہونا چاہئے کہ وہ اپنے پر غور کرنے والوں کو تازہ علوم اور نئے مطالب نہ دے سکے اور سینکڑوں سال تک وہیں کا وہیں کھڑار ہے۔اس وقت جس قدر بے دینی اور اللہ تعالیٰ سے دوری اور شریعت سے بُعد نظر آتا ہے وہ ان علوم کے بالواسطہ یا بلا واسطہ اثر ہی کا نتیجہ ہے۔پس اگر قرآن کریم اللہ کا کلام ہے تو چاہئے تھا کہ ان علوم جدیدہ کی ایجاد یا وسعت کے ساتھ اس میں سے بھی ایسے معارف ظاہر ہوں جو یا تو ان علوم کی غلطی کو ظاہر کریں اور بدلائل انسان کو تسلی دیں یا یہ بتائیں کہ