دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 397

دعوت الامیر — Page 257

(۲۵۷) دعوة الامير کہ ان کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم کا وسیع علم عطا فرما دے جو استدلالیوں والا نہ ہو بلکہ صفاتِ الہیہ کا علم ہو اور روحانی منازل کا علم ہو اور اے بادشاہ! ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے علوم سے ایسا وافر حصہ دیا ہے کہ اگر یوں کہیں کہ آپ کے وقت میں قرآن کریم دوبارہ نازل ہوا ہے تو یہ کوئی مبالغہ نہ ہوگا بلکہ بالکل سچ ہوگا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے مطابق ہوگا کیونکہ آپ سے بھی ایک روایت ہے کہ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالقُرَيَّا لَنَا لَهُ رَجُلْ مِنْ فَارِسَ (المعجم الكبير للحافظ ابی القاسم سلیمان بن احمد طبرانی جلد ۱۸ صفحه ۳۵۳ حدیث نمبر ۹۰۰ مکتبه ابن تیمیہ قاہرہ میں "رجل" کی بجائے "رجال" کا لفظ ہے ) کہ اگر قرآن شریف ثریا پر اڑ کر چلا چائے تو ایک شخص فارسی الاصل اُس کو واپس لے آوے گا۔سب سے پہلے تو میں علم قرآن کے اُس حصہ کو بیان کرتا ہوں جس نے اُصولی رنگ میں اسلام کو ایسی مدددی اور مختلف ادیان کے مقابلہ میں اسلام کے مقام کو اس طرح بدل دیا کہ فاتح مفتوح ہو گیا اور غالب مغلوب۔یعنی قرآن کریم جو اس سے پہلے ایک مردہ کتاب سمجھی جاتی تھی ایک زندہ کتاب بن گئی اور اس کی خوبیوں کو دیکھ کر اس کے مخالف گھبرا کر بھاگ گئے۔حضرت اقدس مسیح موعود کے نزول سے پہلے عام طور پر مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ معارف قرآنیہ جو بزرگوں نے بیان کئے ہیں وہ اپنی حد کو پہنچ گئے ہیں اور اب ان سے زیادہ کچھ بیان نہیں ہو سکتا بلکہ اور جستجو کرنی فضول اور دین کے لئے مضر ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کو یہ علم دیا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی مادی پیدائش اپنے اندر بے انتہاء اسرار