دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 397

دعوت الامیر — Page 182

(IAP) دعوة الامير بعد آپ نے قائم کیا تھا دنیا سے مٹ نہ جاوے۔اے بادشاہ! ایک مسلمان کا دل پگھل جاتا ہے اور اس کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے جب وہ احادیث اور تاریخوں میں یہ پڑھتا ہے که مرضِ موت میں جبکہ شدت مرض سے آپ کے جسم پر پسینہ آ آ جاتا تھا اور بیماری آپ کے بار یک دربار یک اعصاب پر اپنا اثر کر رہی تھی ، آپ کا کرب اور آپ کی تکلیف اور بھی بڑھ جاتی تھی جب آپ یہ خیال فرماتے تھے کہ کہیں لوگ میرے بعد اس تعلیم کو بھول نہ جائیں اور شرک میں مبتلا نہ ہو جائیں اور آپ اس وقت کی تکلیف میں بھی اپنے نفس کو بھولے ہوئے تھے اور اُمت کی فکر سے دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کروٹیں بدل بدل کر فرما رہے تھے کہ لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوْا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ (بخاری کتاب الجنائز باب ماجاء فی قبر النبی و ابی بکر و عمر رضی الله عنهم) اللہ تعالیٰ یہود و نصاری پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد بنالیا۔جس سے آپ کی مراد یہ تھی کہ دیکھنا میری عمر بھر کی تعلیم کے خلاف میری وفات کے بعد مجھی کو پوجنے نہ لگ جانا اور توحید الہی کی تعلیم کو بھول نہ جانا۔یہ مرض موت میں آپ کا کرب اور توحید الہی کی محبت ایک ایسا دردناک واقعہ تھا کہ آپ سے محبت رکھنے والا انسان اس واقعہ کے درد ناک اثر کے ماتحت شرک کے قریب بھی کبھی نہیں جا سکتا تھا، مگر اے بادشاہ! آپ دیکھتے ہیں کہ مسلمان کہلانے والوں میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جو کھلم کھلا اس تعلیم کے خلاف عمل کر رہے ہیں۔وہ کونسا مسلمان ہے جو آج سے تیرہ سو سال پہلے یہ وہم بھی کر سکتا تھا کہ لا الہ الا الله کے علمبر دار کسی وقت قبروں پر سجدے کریں گے، اپنے بزرگوں کے مقامات کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھیں گے۔انسانوں کو عَالِمُ الْغَيْبِ قرار دیں گے۔اولیاء اللہ کو خدا تعالیٰ کی قدرت کا مالک سمجھیں گے۔مردوں سے مرادیں مانگیں گے، قبروں پر نیاز میں