دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 397

دعوت الامیر — Page 181

(IMI) دعوة الامير اسلام کا بالکل بدل جانا اور اپنی حقیقت سے دور ہو جانا تو ایسا مسئلہ ہے جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں کوئی عقلمند بھی اس کا منکر نہ ہوگا اور کوئی منکر بھی کب ہوسکتا ہے جب کہ خدا تعالیٰ کا فعل ثابت کر رہا ہے کہ اس وقت مسلمان مسلمان نہیں رہے اور پھر اسلام کی موجودہ شکل جو خود مسلمانوں کو تسلی نہیں دے سکتی وہ آپ اس امر کی گواہ ہے کہ اسلام اس وقت بگڑ چکا ہے پس صرف یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ کیا حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب نے حقیقی اسلام کو جو اپنی خوبصورتی اور دل آویزی کے سبب اپنوں اور غیروں سب کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے فی الواقع دنیا کے سامنے پیش کیا ہے یا نہیں۔اور کیا آپ نے ان مفاسد کو اسلام سے دور کیا ہے یا نہیں جو اس کی پاک تعلیم میں اللہ سے دور اور خود غرض ملاؤں نے ملا دیئے تھے۔اس سوال کو حل کرنے کے لئے میں مثال کے طور پر چند موٹی موٹی باتیں جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں جن سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اسلام کی شکل کو اس وقت لوگوں نے کیسا بدل دیا تھا اور حضرت اقدس نے کس طرح اس کی شکل کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔مذہب کا نقطہ مرکزی جس کے گرد باقی سب مسائل چکر لگاتے ہیں یا یہ کہ اسلام کی وہ جڑ جس کے لئے باقی سب عقائد اور اعمال بمنزلہ شاخوں اور پتوں کے ہیں ایمان باللہ ہے۔تمام عقائد اسکی تائید کے لئے ہیں اور تمام اعمال اسکی تثبیت کے لئے اور ایمان بااللہ کے اجزاء میں سے سب سے بڑا جزو ایمان بالتوحید ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت سے کہ دعویٰ کیا اور اس وقت تک کہ آپ فوت ہوئے لا الہ الا اللہ کی تعلیم کا اعلان جاری رکھا ہر ایک قسم کی تکلیف برداشت کی مگر اس تعلیم کا اظہار ترک نہ کیا، حتی کہ وفات کے وقت بھی آپ کو اگر کوئی خیال تھا تو یہی کہ یہ تعلیم جسے اس قدر قربانیوں کے