دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 397

دعوت الامیر — Page 183

(IAF) دعوة الامير چڑھا ئیں گے، اپنے پیروں کی نسبت یہ یقین رکھیں گے کہ یہ جو چاہیں اللہ تعالیٰ سے منوالیں گے اور ان کو حاضر و ناظر جائیں گے۔اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کے نام پر قربانیاں دیں گے اور پھر اس سب پر مزید ظلم یہ کریں گے کہ دعوی کریں گے کہ یہ سب تعلیم قرآن کریم کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہے مگر مشرق سے لے کر مغرب تک اور شمال سے لیکر جنوب تک جس جس جگہ مسلمان رہتے ہیں یہ سب کچھ ہورہا ہے اور کثیر حصہ مسلمانوں کا مذکورہ بالا باتوں میں سے کسی نہ کسی بات کا مرتکب ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس سوز و گداز کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے آپ کے مزار مبارک کو تو ان بدعات سے بچالیا مگر دیگر بزرگان اسلام کی قبروں پر آجکل ہندوؤں کے مندروں سے کم مشرکانہ رسوم نہیں ہوتیں۔یقیناً اگر آج رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا کر دیکھتے تو ان لوگوں کو مسلمان خیال نہ فرماتے بلکہ کسی اور مشرکانہ دین کے پیرو خیال کرتے۔شاید کہا جائے کہ یہ خیالات تو جاہل لوگوں کے ہیں ، علماء ان خیالات سے بیزار ہیں مگر حق یہ ہے کہ کسی قوم کی حالت اس کے اکثر افراد سے دیکھی جاتی ہے۔جب مسلمانوں میں سے اکثر ان خیالات کے پیرو ہیں تو یہی فیصلہ کرنا ہوگا کہ مسلمانوں کی حالت بلحاظ توحید کے گر گئی ہے اور وہ لا الہ الا اللہ کے اصل کو جو اسلام کی جان تھا بھلا بیٹھے ہیں مگر یہ بھی درست نہیں کہ عوام الناس ہی ان عقائد کے قائل ہیں ان عوام الناس کے پیراور مولوی بھی ان کے خیالات سے متفق ہیں اور اگر بعض ان میں سے دل سے متفق نہیں تو کم سے کم ان کی حالت بھی اس قدر خراب ہوگئی ہے کہ وہ ظاہر میں عوام الناس کے خیالات کا رد نہیں کر سکتے اور یہ بات بھی اس بات کی علامت ہے کہ ایمان مٹ گیا ہے۔بعض فرقے مسلمانوں میں سے ایسے ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ شرک سے بکلی