دعوت الامیر — Page 89
(19) دعوة الامير ۲ میسیج کی آمد کو اسلام کی ترقی کا ایک نیا دور قرار دیا گیا ہے اور اسی کی آمد کے وقت تک دیگر ادیان پر غلبہ اسلام کو ملتوی کیا گیا ہے۔۳ مسیح اور مہدی کو ایک قرار دیکر مسیح کی آمد کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد قرار دیا گیا ہے اور اس کے دیکھنے والوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور اس طرح عاشقانِ رسالت مآب کے دل میں مسیح“ کا ولولہ انگیز شوق پیدا کر دیا گیا۔۴۔ایک خطرناک اور پر آشوب زمانہ جس کی خبر نہایت منذر الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی اور جو اپنے ہیبت ناک اثرات سے اسلام کی جڑوں کو ہلا دینے والا ثابت ہونے والا تھا۔اس کی آفات کا ازالہ اور آئندہ ہمیشہ کے لئے اسلام کے محفوظ کر دینے کا کام مسیح موعود کے سپر د بتایا گیا تھا۔پس مسیح موعود کا انتظار مسلمانوں کو اسی طرح ہو رہا تھا جیسا کہ ایک رحمت کے فرشتے کا ہونا چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ کہ كَيْفَ تَهْلِكُ أُمَّةً أَنَا فِي أَوَّلِهَا وَ الْمَسِيحُ فِي آخِرِهَا (كنز العمال مؤلّف علامه علاؤ الدين على المتقى بن حسام الدين الهندى البرهان النوری المتوفی ۹۷۵ھ ) جلد ۱۴ صفحه ۲۶۹ روایت ۳۸۶۸۲ مطبوعہ حلب ۱۹۷۵ء میں المسیح “ کی بجائے عیسی بن مریم کے الفاظ ہیں) وہ امت کس طرح ہلاک ہو سکتی ہے جس کے شروع میں میں ہوں اور آخر میں مسیح ہوگا۔یہی خواہانِ اسلام کو مسیح علیہ السلام کی آمد کے لئے بے تاب کر رہے تھے کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ اس کی آمد کے بعد اسلام چاروں طرف سے مضبوط دیواروں میں گھر کر شیطانوں کے حملوں سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے گا۔