دعوت الامیر — Page 90
(9۔) دعوة الامير ان چاروں باتوں نے مل کر مسیح کی آمد کے مسئلے کو مسلمانوں کے لئے ایک اصولی سوال بنا دیا تھا۔اور ممکن نہ تھا کہ ایسا زمانہ جو ایک طرف تو عاشقانِ رسالت مآب کو اپنے محبوب کے روبرو کرنے والا تھا، خواہ ظلیت اور مماثلت کے پردے ہی میں سہی اور دوسری طرف اسلام کو حشر انگیز صدمات سے نکال کر حفاظت اور امن کے مقام پر کھڑا کرنے والا تھا، بلا کافی پتے اور نشان دہی کے چھوڑ دیا جاتا۔یہ تو نہ کبھی ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے کہ ماموروں اور مرسلوں کے زمانے اور ان کی ذات کی طرف ایسے الفاظ میں رہنمائی کی جائے کہ گویا متلاشی کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ دے دیا جائے کیونکہ اگر اس طرح کیا جاتا تو ایمان بے فائدہ ہو جاتا اور کافر اور مومن کی تمیز مٹ جاتی۔ہمیشہ ایسے ہی الفاظ میں ماموروں کی خبر دی جاتی ہے جن سے ایمان اور شوق رکھنے والے ہدایت پالیتے ہیں۔اور شریر اپنی ضد اور ہٹ کے لئے کوئی آڑ اور بہانہ تلاش کر لیتے ہیں۔چڑھے ہوئے سورج کا کون انکار کر سکتا ہے؟ مگر اس پر ایمان لانے کا ثواب اور اجر بھی کون دیتا ہے؟ پس ایک حد تک راہنمائی اور ایک حد تک اختفاء ضرور کیا جاتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے۔مسیح موعود کے زمانے کی خبروں میں بھی اسی اصل کو مد نظر رکھا گیا ہے۔اس کے زمانے کی خبریں ایسے الفاظ میں دی گئی ہیں جس قسم کے الفاظ میں تمام گزشتہ انبیاء کے متعلق خبریں دی جاتی رہی ہیں، مگر پھر بھی ایک سچے متلاشی اور صاحب بصیرت کے لئے وہ ایک روشن نشان سے کم نہیں۔وہ جس نے کسی ایک نبی کو بدلائل مانا ہواور صرف نسلی ایمان پر کفایت کئے نہ بیٹھا ہو، اس کے لئے ان نشانات سے فائدہ اٹھانا کچھ بھی مشکل نہیں ، مگر وہ لوگ جو بظاہر سینکڑوں رسولوں پر ایمان لاتے ہیں لیکن درحقیقت ایک رسول کو بھی انہوں