دعوت الامیر — Page 56
دعوة الامير الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم پس اس سے یہ مراد ہے کہ اس امت کے افراد نبیوں کے ساتھ ہوں گے نہ کہ نبیوں میں شامل ہوں گے۔لیکن اس اعتراض کے پیش کرنے والے یہ نہیں سوچتے کہ اس آیت میں صرف نبیوں کا ہی ذکر نہیں بلکہ ان کے ساتھ ہی صدیقوں ،شہداء اور صلحاء کا بھی ذکر ہے اور اگر مع کی وجہ سے اس آیت کے وہ معنی ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں تو پھر ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑیگا کہ اس امت میں کوئی صدیق بھی نہیں ہوگا بلکہ صرف بعض افراد صدیقوں کے ساتھ رکھے جائیں گے اور شہید بھی کوئی نہیں ہوگا، صرف بعض لوگ شہداء کے ساتھ رکھے جائیں گے اور صالح بھی کوئی نہیں ہوگا صرف کچھ لوگ صلحاء کے ساتھ رکھے جائیں گے یا دوسرے الفاظ میں یہ کہ اس امت کے تمام افراد نیکی اور تقویٰ کے تمام مدارج سے محروم ہوں گے صرف انعام میں ان لوگوں کے ساتھ شامل کر دیئے جائیں گے جو پہلی امتوں میں سے ان مدارج پر پہنچے ہیں۔لیکن کیا کوئی مسلمان بھی اس قسم کا خیال دل میں لا سکتا ہے۔اس سے زیادہ اسلام اور قرآن اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کیا ہوگی کہ امت محمدیہ میں سے نیک لوگ بھی نہ ہوں بلکہ صرف چند آدمی نیک لوگوں کے ساتھ شامل کر کے رکھ دیئے جائیں۔غرض اگر مَعَ کے لفظ پر زور دے کر نبوت کا سلسلہ بند کیا جائے گا تو پھر اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کے لئے صدیقیت اور شہادت اور صالحیت کا دروازہ بھی بند کرنا پڑے گا۔اصل بات یہ ہے کہ مع کے معنی یہی نہیں ہوتے کہ ایک جگہ یا ایک زمانے میں دو چیزوں کا اشتراک ہے بلکہ کبھی مع درجہ میں اشتراک کے لئے بھی آتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا هِ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوْا وَاعْتَصَمُوْا بِاللَّهِ وَاخْلَصُوْا دِيْنَهُمْ لِلَّهِ فَأُولَئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ