دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 397

دعوت الامیر — Page 57

(°c) دعوة الامير وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا (النساء ۱۴۲-۱۴۷) یعنی تحقیق منافق دوزخ کے نچلے طبقے میں ہوں گے اور تو ان کا کسی کو مددگار نہیں پائے گا مگر ان میں سے وہ مستثنیٰ ہیں جنہوں نے تو بہ کر لی اور اصلاح کرلی اور اللہ تعالیٰ کو خوب مضبوط پکڑ لیا اور اپنے دین کو حض اللہ ہی کے لئے کر دیا اور عمل صالح کرنے والوں اور اللہ تعالیٰ ہی کے ہو کے رہنے والوں اور اطاعت کو خاص کر لینے والوں کی نسبت مَعَ الْمُؤْمِنِینَ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔پس اگر مَعَ کے معنی اس جگہ ساتھ کے لئے جائیں تو اسکے یہ معنی ہوں گے کہ باوجود ان سب باتوں کے وہ مومن نہیں بنیں گے بلکہ صرف مومنوں کے ساتھ رکھے جائیں گے اور یہ بات بالبداہت باطل ہے۔پس مع کے معنی کبھی درجہ کی شراکت کے بھی ہوتے ہیں اور انہیں معنوں میں أُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ کی آیت میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔قرآن کریم کے اور بھی بہت سے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نبوت کا دروازہ اس امت میں گھلا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ظل ہو اور آپ کی نبوت کی اشاعت کے لئے اور آپ کی غلامی اور اطاعت سے حاصل ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ اعراف میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اُمت کے ذکر کے دوران میں فرماتا ہے۔قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِلُ بِهِ سُلْطَنَا وَاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ o وَلِكُلِّ أَمَّةٍ أَجَلْ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُوْنَ يَابَنِي أَدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ يَقْضُونَ عَلَيْكُمْ أَيَتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (الاعراف: ۳۴-۳۶) یعنی ان کو کہہ دے کہ میرے رب نے مجھ پر صرف بری باتیں جو خواہ ظاہری طور پر بری ہوں خواہ بار یک نگاہ سے اُن کی برائی معلوم ہو ، حرام کی ہیں