دعوت الامیر — Page 55
(00) دعوة الامير عمل کرتے جس طرح ان سے کہا جاتا ہے تو اُن کے لئے اچھا ہوتا اور ان کے دلوں کو یہ بات مضبوط کر دیتی اور اس صورت میں ہم ان کو بہت بڑا اجر دیتے اور ہم ان کو صراط مستقیم دکھا دیتے اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر ہم نے انعام کیا ہے۔یعنی نبیوں میں اور صدیقوں میں اور شہیدوں اور صلحاء میں۔اور یہ لوگ نہایت ہی عمدہ دوست ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے اور اللہ خوب جاننے والا ہے۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ منعم علیہ گروہ کا راستہ دکھانے سے مراد نبیوں،صدیقوں، شہیدوں اور صلحاء کے گروہ میں شامل کرنا ہے۔پس جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت ہمیں ہدایت کی ہے کہ ہم قریباً چالیس دفعہ دن میں اس سے صراط مستقیم کے لئے دعا کریں اور وہ خود صراط مستقیم کی تشریح یہ کرتا ہے کہ نبیوں ،صدیقوں ،شہداء اور صلحاء کے گروہ میں شامل کر دیا جائے تو کس طرح ممکن ہے کہ اس امت کے لئے نبوت کا دروازہ منْ كُلِ الْوُجُوْءِ بند ہو۔کیا یہ ہنسی نہیں بن جاتی اور کیا اللہ تعالیٰ کی شان تمسخر سے بالا نہیں، کیا یہ ممکن ہے کہ وہ ایک طرف تو ہم پر زور دے کہ مجھ سے نبیوں ، صدیقوں ،شہداء اور صلحاء کے انعامات مانگو اور دوسری طرف صاف کہہ دے کہ میں نے تو یہ انعام اس امت کے لئے ہمیشہ کے واسطے روک دیا، حاشا و کلا، اللہ تعالیٰ کی ذات تمام عیبوں سے پاک ہے اور تمام بدیوں سے منزہ ہے۔اگر اس نے یہ انعام روک دیا ہوتا تو وہ کبھی سورہ فاتحہ میں منعم علیہ گروہ کے راستے کی طرف راہنمائی کی دعانہ سکھا تا اور پھر کبھی اس راستہ کی تشریح یہ نہ فرما تا کہ ہمارے اس رسول کی اتباع سے انسان نبیوں کے گروہ میں بھی شامل ہو جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ سورۂ نساء کی آیت میں مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ہے نہ کہ مِنَ