دعوت الامیر — Page 46
دعوة الامير منکر ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آزاد ہوکر حاصل ہوتی ہو، اور اسی وجہ سے ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسیح ناصری کی آمد سے منکر ہیں مگر ہم اس قسم کی نبوت کی نفی نہیں کر سکتے جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت بالا ہوتی ہو۔اے امیر! اللہ تعالیٰ آپ کے دل کو مہبط انوار بنائے اور آپ کے سینے کو حق کی قبولیت کے لئے وسیع کرے۔وہی نبوت پہلے نبی کے سلسلے کو ختم کر سکتی ہے جو شریعت والی نبوت ہو اور وہی پہلے نبی کی شریعت کو منسوخ کر سکتی ہے جو بلا واسطہ حاصل ہو لیکن جو نبوت کہ پہلے نبی کے فیض سے اور اس کی اتباع سے حاصل ہو اور جس کی غرض پہلے نبی کی نبوت کی اشاعت ہو اور اُس کی عظمت اور اُس کی بڑائی کا اظہار ہو، وہ پہلے نبی کی ہتک کرنے والی نہیں بلکہ اس کی عزت کو ظاہر کرنے والی ہے اور اس قسم کی نبوت قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے اور عقلِ سلیم اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اس امت میں حاصل ہوسکتی ہے اور اگر یہ نبوت اس اُمت کو حاصل نہ ہو تو پھر اس امت کو دوسرے نبیوں کی امتوں پر کوئی فضیلت نہیں رہتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ محدث حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں بھی بہت سے گزرے ہیں۔(بخاری کتاب المناقب باب مناقب عمر بن الخطاب ) پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ بھی انسان کو محدثیت کے مقام تک ہی پہنچا سکتی ہے تو پھر آپ کو دوسرے انبیاء پر کیا فضیلت رہی اور آپ سید ولد آدم اور نبیوں کے سردار کیونکر ٹھہرے۔خیر الرسل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آپ میں بعض ایسے کمالات پائے جائیں جو پہلے نبیوں میں نہیں پائے جاتے تھے اور ہمارے نزدیک یہ کمال آپ میں ہی ہے کہ پہلے انبیاء کے امتی اُن کی قوت جذب سے صرف محدثیت کے مقام تک پہنچ