دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 397

دعوت الامیر — Page 45

(ro) دعوة الامير کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط کے بغیر ملا ہو، اگر ایسا کوئی آدمی آئے تو ہمارے نزد یک اسلام باطل ہو جاتا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالی کے جو وعدے تھے جھوٹے ہو جاتے ہیں۔لیکن ہم اس امر کو بھی کبھی پسند نہیں کر سکتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو ایسا سمجھا جائے کہ گویا آپ نے تمام فیوض الہی کو روک دیا ہے اور آپ بجائے دُنیا کی ترقی میں ممد ہونے کے اس کے راستہ میں روک بن گئے ہیں اور گویانعُوذُ بِالله مِنْ ذَالِکَ آپ بجائے دُنیا کو خدا تعالیٰ تک پہنچانے کے اسے وصول الی اللہ کے اعلیٰ مقامات سے محروم کرنے والے ہیں۔جس طرح پہلا خیال اسلام کے لئے تباہ کرنے والا ہے، اسی طرح یہ دوسرا خیال بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر ایک خطرناک حملہ ہے، اور ہم نہ اُسے قبول کرتے ہیں اور نہ اسے برداشت کر سکتے ہیں ، ہمارا یقین ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے لئے رحمت تھے۔اور ہمارا پکا یقین ہے کہ یہ بات ہر ایک آنکھ رکھنے والے کو نظر آ رہی ہے۔آپ نے آکر دنیا کو فیوض سماوی سے محروم نہیں کر دیا بلکہ آپ کے آنے سے اللہ تعالیٰ کے فیوض کی روانی پہلے سے بہت زیادہ ہوگئی ہے۔اگر پہلے وہ ایک نہر کی طرح بہتے تھے تو اب ایک دریا کی طرح بہتے ہیں، کیونکہ پہلے علم اپنے کمال کو نہیں پہنچا تھا اور علم کامل کے بغیر عرفانِ کامل بھی حاصل نہیں ہوسکتا اور اب علم اپنے کمال کو پہنچ گیا ہے۔قرآن کریم میں وہ کچھ بیان کیا گیا ہے جو اس سے پہلے کی کتب میں بیان نہیں کیا گیا تھا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل لوگوں کو عرفان میں زیادتی حاصل ہوئی ہے اور عرفان میں زیادتی کی وجہ سے اب وہ اُن اعلیٰ مقامات پر پہنچ سکتے ہیں جن پر پہلے لوگ نہیں پہنچ سکتے تھے اور اگر یہ ایمان نہ رکھا جائے تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسرے انبیاء پر کیا فضیلت رہ جاتی ہے۔پس ہم اس قسم کی نبوت سے تو