دعوت الامیر — Page 47
(r2) دعوة الامير سکتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی مقام نبوت تک بھی پہنچ سکتے ہیں اور یہی آپ کی قوت قدسیہ کا کمال ہے جو ایک مومن کے دل کو آپ کی محبت اور آپ کے عشق کے جذبہ سے بھر دیتا ہے۔اگر آپ کے آنے سے اس قسم کی نبوت کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے تو پھر آپ کی مدد دنیا کے لئے ایک عذاب بن جاتی ہے اور قرآن کریم کا وجود بے فائدہ ہوجاتا ہے کیونکہ اس صورت میں یہ ماننا پڑے گا کہ آپ کی بعثت سے پہلے تو انسان بڑے بڑے درجوں تک پہنچ جاتا تھا مگر آپ کی بعثت کے بعد وہ اُن درجوں کے پانے سے روک دیا گیا اور یہ ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم سے پہلی کتب تو نبوت کا درجہ پانے میں ممد ہوا کرتی تھیں یعنی اُن کے ذریعہ سے انسان اس مقام تک پہنچ جاتا تھا جہاں سے اللہ تعالیٰ اُسے نبوت کے مقام کی تربیت کے لئے چن لیتا تھا لیکن قرآن کریم پر عمل کر کے انسان اس درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔اگر فی الواقع یہ بات ہو تو اللہ تعالیٰ کے سچے پر ستاروں کے دل خُون ہو جائیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جائیں کیونکہ وہ تو رحمۃ للعالمین اور سید الانبیاء کی آمد پر یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اب ہماری روحانی ترقیات کے لئے نئے دروازے کھل جائیں گے اور اپنے محبوب رب العالمین کے اور بھی قریب ہو جائیں گے لیکن نتیجہ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِگ یہ نکلا کہ آپ نے آکر جو دروازے پہلے کھلے تھے اُن کو بھی بند کر دیا۔کیا کوئی مومن رسول کریم کی نسبت اس قسم کا خیال ایک آنِ واحد کے لئے بھی اپنے دل میں آنے دے سکتا ہے؟ کیا کوئی آپ کا عاشق ایک ساعت کے لئے بھی اس عقیدہ پر قائم رہ سکتا ہے؟ بخدا آپ برکت کا ایک سمندر تھے اور روحانی ترقی کا ایک آسمان تھے جس کی وسعت کو کوئی نہیں پاسکتا۔آپ نے رحمت کے دروازے بند نہیں کر دیئے بلکہ