دعوت الامیر — Page 29
دعوة الامير ضرور وفات مسیح کے ہی قائل ہوں گے کیونکہ وہ لوگ قرآن مجید اور کلام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اقوالِ صحابہ اور آرائے اہل بیت کے شیدا تھے، مگر چونکہ وہ اس بات کو معمولی سمجھتے تھے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے اقوال خاص طور پر محفوظ نہیں رکھے گئے لیکن جو کچھ بھی پتہ چلتا ہے وہ اسی امر کی تصدیق کرتا ہے کہ اُن کا مذہب بھی یہی تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔چنانچہ مجمع البجار میں ہے کہ قَالَ مَالِكَ مَاتَ (مجمع بحارالانوار جلد ۱ صفحه ۲۸۶ مطبوعه مطبع العالی المنشی نولکشور ۵۱۳۱۴) یعنی امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔غرض قرآن کریم اور احادیث کے علاوہ اجماع صحابہ اور آرائے اہل بیت اور اقوال آئمہ سے بھی ہمارے ہی خیال کی تصدیق ہوتی ہے۔یعنی یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں ، پس ہم پر یہ الزام لگا نا کہ ہم حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا عقیدہ رکھ کر حضرت مسیح کی ہتک کرتے ہیں اور قرآن کریم اور احادیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے ہیں درست نہیں۔ہم مسیح علیہ السلام کی ہتک نہیں کرتے ، بلکہ اس عقیدہ کی رُو سے خدا تعالیٰ کی توحید کو قائم کرتے ہیں اور اس کے رسول کی عزت کو ثابت کرتے ہیں اور خود حضرت مسیح علیہ السلام کی خدمت کرتے ہیں کیونکہ وہ بھی کبھی پسند نہیں کریں گے کہ ان کو ایک ایسے مقام پر جگہ دی جائے کہ جس سے توحید باری تعالیٰ کوصد پہنچتا ہو اور شرک کو مددملتی ہو اور سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوتی ہو۔اب اے بادشاہ! آپ خود ہی غور کر کے دیکھ لیں کہ کیا ہمارے مخالف اس اعتراض میں حق پر ہیں یا ہم ؟ کیا ان کا حق ہے کہ ہم سے ناراض ہوں یا ہمارا حق ہے کہ ان سے ناراض ہوں کیونکہ انہوں نے ہمارے خدا کا شریک مقرر کیا اور ہمارے رسول کی ہتک کی