دعوت الامیر — Page 28
(PA) دعوة الامير علیہ السلام کی وفات کے متعلق اہل بیت نبوی کا بھی اتفاق ہے۔چنانچہ طبقات ابن سعد کی جلد ثالث میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی وفات کے حالات میں حضرت امام حسن سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا۔ايُّهَا النَّاسُ قَدْ قُبِضَ اللَّيْلَةَ رَجُلْ لَمْ يَسِيقُهُ الْأَوَّلُونَ وَلَا يُدْرِكْهُ الْأَخَرُونَ قَدْ كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُهُ الْمَبْعَثَ فَيَكْتَنِفُهُ جِبْرَائِيلُ عَنْ يَمِينِهِ وَمِيكَائِيلُ عَنْ شِمَالِهِ فَلَا يَنْتَنِيْ حَتَّى يَفْتَحِ اللَّهُ لَهُ وَمَا تَرَكَ إِلَّا سَبْعَ مِائَةِ دِرْهَم اَرَادَ أَنْ يَشْتَرِئَ بِهَا خَادِمًا وَلَقَدْ قُبِضَ فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي عُرِجَ فِيهَا بِرُوْحِ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ لَيْلَةَ سَبْعِ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ (طبقات ابن سعد جلد ۳۹ مطبوعہ بیروت ۵۱۴۰۵)۔یعنی اے لوگو! آج وہ شخص فوت ہوا ہے کہ اس کی بعض باتوں کو نہ پہلے پہنچے ہیں اور نہ بعد کو آنے والے پہنچیں گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے جنگ کے لئے بھیجتے تھے تو جبرائیل اس کے داہنے طرف ہو جاتے تھے اور میکائیل ائیں طرف پس وہ بلا فتح حاصل کئے واپس نہیں ہوتا تھا۔اور اس نے صرف سات سو (۷۰۰) درہم اپنا ترکہ چھوڑا ہے جس سے اس کا ارادہ تھا کہ ایک غلام خریدے اور وہ اس رات کو فوت ہوا ہے جس رات عیسی بن مریم کی روح آسمان کی طرف اُٹھائی گئی تھی یعنی رمضان کی ستائیسویں تاریخ کو۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کے نزدیک بھی حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے تھے کیونکہ اگر ان کا یہ خیال نہ ہوتا تو امام حسن یہ کیوں فرماتے کہ جس رات حضرت عیسیٰ کی روح آسمان کو اٹھائی گئی تھی اسی رات کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی ہے۔صحابہ کرام اور اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ بعد کے بزرگ بھی