دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 397

دعوت الامیر — Page 30

(r۔) دعوة الامير اور اپنے بن کر دشمنوں کی طرح حملہ آور ہوئے۔دوسرا اعتراض ہم پر یہ کیا جاتا ہے کہ ہم لوگ دوسرے مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف اسی اُمت میں سے ایک شخص کو مسیح موعود مانتے ہیں حالانکہ یہ امر احادیث نبوی کے خلاف ہے کیونکہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح آسمان سے نازل ہوں گے۔یہ بات بالکل درست ہے کہ ہم لوگ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب ساکن قادیان ضلع گورداس لورد اسپورصوبہ پنجاب ملک ہندوستان کو مسیح موعود اور مہدی مسعود سمجھتے ہیں مگر جبکہ قرآن کریم اور احادیث اور عقلِ سلیم سے یہ امر ثابت ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں تو پھر ہم نہیں سمجھتے کہ ہمارا یہ عقیدہ قرآن کریم اور احادیث کے خلاف کیونکر ہوگا جبکہ قرآن کریم سے حضرت مسیح کی وفات ثابت ہے اور احادیث بھی اس پر شاہد ہیں اور جبکہ احادیث نبویہ سے ایک موعود کی جسے ابن مریم کہا گیا ہے آمد کی خبر معلوم ہوتی ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا موعود اسی امت کا ایک فرد ہوگا نہ کہ مسیح ناصری علیہ السلام جو فوت ہو چکے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ اگر قرآن کریم اور احادیث سے حضرت مسیح کی وفات بھی ثابت ہوتی ہو تب بھی احادیث میں چونکہ مسیح ابن مریم کے آنے کی خبر دی گئی ہے انہیں کی آمد پر یقین رکھنا چاہئے کیونکہ کیا اللہ تعالیٰ قادر نہیں کہ ان کو پھر زندہ کر کے دُنیا کی اصلاح کے لئے بھیج دے اور ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہم گو یا اللہ تعالیٰ کی قدرت کے منکر ہیں ،مگر بات یہ نہیں بلکہ اس کے بالکل برخلاف ہے۔ہم خدا تعالیٰ کی قدرت کے انکار کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی قدرت پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اس امر کے قائل ہیں کہ حضرت مسیح ناصری کو خدا تعالیٰ زندہ کر کے نہیں بھیجے گا بلکہ اسی اُمت کے ایک فرد کو اس نے مسیح موعود بنا کر بھیج دیا