دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 397

دعوت الامیر — Page 378

(F2A) دعوة الامير متنفر ہیں یا اس کی طرف ان کو کوئی توجہ نہیں۔اسلام ان کی زبانوں پر ہے مگر حلق سے نیچے نہیں اُترتا، ان کی تمام تر توجہ سیاسیات کی طرف ہے اگر کوئی ملک ہاتھ سے نکل جائے تو وہ زمین و آسمان کو سر پر اُٹھا لیتے ہیں لیکن اگر ہزاروں لاکھوں آدمی اسلام کو چھوڑ کر مسیحی یا ہندو ہوجائیں تو اُن کو کچھ پروا نہیں۔دنیاوی مفاد حاصل کرنے کے لیے تو اُن میں والنٹیئر وں کی کوئی کمی نہیں لیکن اشاعت دین کے لیے اُن میں سے ایک بھی باہر نہیں نکلتا۔سلطان ترکی کی خلافت کا اگر کوئی منکر ہو تو اُن کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے لیکن رسول کریم کی رسالت کو ر ڈ کر دے تو اُن کی غیرت جوش میں نہیں آتی اور یہ حالت اُن کی دن بدن بڑھتی جاتی ہے ہندوستان کی تو اب یہ حالت ہے کہ غیر مذاہب کے لوگوں میں تبلیغ کرنا تو دور کی بات ہے اُن کی طرف سے اسلام پر جو حملے ہوتے ہیں اگر اُن کا بھی جواب دیا جائے تو خود مسلمان کہلانے والے لوگ گلو گیر ہو جاتے ہیں اور اُسے مصلحت وقت کے خلاف بتاتے ہیں۔غرض اسلام ایک رڈی شے کی طرح گھروں سے نکال کر پھینک دیا گیا ہے اور صرف اس کا نام سیاسی فوائد کے حصول کے لیے رکھ لیا گیا ہے اس حالت کو دور کرنے اور اسلام کو مصیبت سے بچانے کے لیے صرف ایک ہی ذریعہ ہے کہ مسیح موعود کو قبول کیا جائے اور اس کے دامن سے اپنے آپ کو وابستہ کیا جائے بغیر اس کے سایہ میں آنے کے ترقی کا کوئی راستہ کھلا نہیں۔اب تلوار کا جہاد اسلام کے لیے مفید نہیں ہوسکتا جب تک ایمان درست نہ ہوں گے اور اسلام کا صحیح مفہوم لوگ نہ سمجھیں گے اور پھر اللہ تعالی کی رسی کو سب کے سب مضبوط نہ پکڑلیں گے اسلام کی ترقی کے سامان پیدا نہیں ہو سکتے۔دنیا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا تھا کہ آپ نے نعوذ باللہ تلوار کے ساتھ اسلام کی اشاعت کی تھی ورنہ دل پر اثر کرنے والے دلائل آپ کے پاس موجود نہ تھے اور خود مسلمان اس اعتراض کی