دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 397

دعوت الامیر — Page 379

(r29) دعوة الامير تائید کرتے تھے اب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس اعتراض کو اپنے رسول سے دُور کرے اور اُس نے اس غرض سے رسول کریم کی اُمت میں سے ایک شخص کو مسیح کر کے بھیجا ہے تا اس کے ذریعے براہین اور دلائل کی تلوار سے دشمن کو مغلوب کرے اور اسلام کو غالب ، تا دنیا کو معلوم ہو کہ جو کام ایک خادم کر سکتا ہے آقا اس کو بدرجہ اولی کر سکتا تھا اب اس ذریعہ کے سوا اسلام کی مد کا اور کوئی طریق نہیں۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو آپ کی غلامی میں داخل کرے اور اس کا ایک ہی طریق ہے کہ اُس بچے اسلام کو جو مسیح موعود لایا ہے اس صحیح طریق سے جو مسیح موعود نے بتایا ہے اس خالص ایمان کے ساتھ جو مسیح موعود نے دلوں میں پیدا کیا ہے دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور بھولے بھٹکوں کو راہِ راست پر لایا جائے اگر اللہ تعالیٰ کا منشاء ہوتا کہ کسی اور ذریعے سے اسلام کو ترقی دے تو وہ پہلے سب راستوں کو بند کیوں کرتا؟ پس مسیح موعود سے دور رہنا گویا اسلام کی ترقی میں روک پیدا کرنا ہے اور دشمنوں کو موقع دینا ہے کہ وہ رسول پاک پر حملے کریں اور آپ کی عزت پر تیراندازی کریں جسے کوئی باغیرت مسلمان گوارا نہیں کرسکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ اُمت کس طرح ہلاک ہوسکتی ہے جس کے ایک طرف میں ہوں اور دوسری طرف مسیح موعود ( کنز العمال جلد ۱۴ صفحه ۳۴۷ روایت ۳۸۸۵۸ مطبوعہ حلب ۱۹۷۵ء) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی شخص کا ایمان محفوظ رہ سکتا ہے جو ان دونوں دیواروں کے اندر آ جائے پس مسیح موعود کے نازل ہو جانے کے بعد جو اس پر ایمان نہیں لاتا وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے باہر ہے اور جو مسیح موعود کے راستے میں روک بنتا ہے وہ در حقیقت اسلام کا دشمن ہے اور اسلام کی ترقی اس کو نہیں بھاتی۔ورنہ وہ اس دیوار کے قائم ہونے میں کیوں روک ڈالتا، جس کے ذریعے سے اسلام محفوظ