دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 397

دعوت الامیر — Page 377

۳۷۷ دعوة الامير سے یہ امید ہی نہیں کی جاسکتی کہ اس وضاحت کے بعد خاموش رہے اور حق کے قبول کرنے میں دیر لگائے۔اگر یہ دلائل جو او پر بیان ہوئے آپ کی صداقت کو ثابت نہیں کرتے تو پھر اور کون سے دلائل ہیں جن کے ذریعے سے پہلے انبیاء کی صداقت ثابت ہوئی اور جن کی وجہ سے نبیوں پر ایمان لایا جاتا ہے اگر ان سے بڑھ کر بلکہ سوائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی سب نبیوں کے متعلق اس قدر بھی دلائل نہیں ملتے جتنے اوپر بیان ہوئے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ان پر ایمان لایا جاتا ہے اگر ایمان صرف ماں باپ سے سنی سنائی باتوں کو دہرا دینے کا نام نہیں بلکہ تحقیق و تدقیق کر کے کسی بات کو ماننے کا نام ہے تو پھر دو باتوں میں سے ایک ضرور اختیار کرنی پڑیگی ، یا تو سب نبیوں کا انکار کرنا ہوگا یا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کو تسلیم کرنا پڑیگا اور میں اے بادشاہ! آپ جیسے فہیم اور ذکی فرمانروا سے یہی اُمید کرتا ہوں کہ آپ مؤخر الذکر طریق کو اختیار کریں گے اور اللہ تعالیٰ کے فرستادہ کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے اظہار اور اسلام کو غالب کرنے اور مسلمان کہلانے والوں کو پھر مسلمان بنانے کے لیے آیا ہے قبول کرنے میں دیر نہیں کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کو قبول کرنا اس کے ارادے کے مطابق بہت سی برکات کا موجب ہوتا ہے اور اس کے منشاء کے خلاف کھڑا ہو جانا کبھی بھی با برکت نہیں ہوتا۔اسلام کی حالت اس وقت قابلِ رحم ہے اور ممکن نہیں کہ جو شخص اس دین سے سچی محبت رکھتا ہو اس کا دل اس کی حالت کو دیکھ کر اس وقت تک خوش ہو سکے جب تک وہ اُس کی کامیابی کے لیے سامان بہم نہ پہنچائے اور اُسے ہر قسم کے خطرات سے محفوظ نہ دیکھ لے۔دشمن تو اس کی عداوت میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اُن کو اس میں کوئی خوبی ہی نظر نہیں آتی ، سر سے پا تک عیب ہی عیب نکالتے ہیں، جو دوست کہلاتے ہیں وہ بھی یا تو دل سے اس سے