دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 397

دعوت الامیر — Page 27

(rz) دعوة الامير دوم یہ کہ تمام انبیائے سابقین کی وفات پر ان کا یقین کسی ذاتی خیال کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس امر کو وہ قرآن کریم کی آیات سے مستنبط سمجھتے تھے، کیونکہ اگر یہ بات نہ ہوتی تو کوئی صحابی تو اُٹھ کر کہتا کہ گو یہ صحیح ہے کہ تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں مگر اس آیت سے جو آپ نے پڑھی ہے یہ استدلال نہیں ہوتا کہ آپ سے پہلے سب انبیاء فوت ہو چکے ہیں۔پس صدیق اکبر کا آیت قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُل سے جمیع انبیائے سابقین کی وفات کا ثبوت نکالنا اور گل صحابہ کا نہ صرف اس پر خاموش رہنا بلکہ اس استدلال سے لذت اٹھانا اور گلیوں اور بازاروں میں اس کو پڑھتے پھرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ سب اس استدلال سے متفق تھے۔تیسرا امر اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خواہ کسی اور نبی کی وفات کا ان کو یقین تھا یا نہیں مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کا انہیں یقیناً کوئی علم نہ تھا، کیونکہ جیسا کہ تمام صحیح احادیث اور معتبر روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر سخت جوش کی حالت میں تھے اور باقی صحابہ سے کہہ رہے تھے کہ جو کہے گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں میں اس کا سر اڑا دوں گا اس وقت اپنے خیال کے ثبوت میں حضرت موسیٰ کے چالیس دن پہاڑ پر چلے جانے کا واقعہ تو وہ پیش کرتے تھے مگر حضرت عیسی کے آسمان پر چلے جانے کا واقعہ انہوں نے ایک دفعہ بھی پیش نہ کیا ، اگر صحابہ کا عقیدہ یہ ہوتا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ جا بیٹھے ہیں تو کیا حضرت عمر یا اُن کے ہم خیال صحابی اس واقعہ کو اپنے خیال کی تائید میں پیش نہ کرتے ؟ اُن کا حضرت موسی کے واقعہ سے استدلال کرنا اور اس واقعہ سے استدلال نہ کرنا بتاتا ہے کہ ان کے ذہن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کوئی ایسا واقعہ تھا ہی نہیں۔حضرات صحابہ کے اجماع کے علاوہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح