دعوت الامیر — Page 357
(۳۵۷) دعوة الامير جب آپ اس قسم کے معاملات سے تنگ آگئے تو آپ نے ایک خط اپنے والد صاحب کو لکھا جس میں اس قسم کے کاموں سے فارغ کر دیئے جانے کی درخواست کی تھی۔اس خط کو میں یہاں نقل کر دیتا ہوں تاکہ معلوم ہو کہ آپ ابتدائی عمر سے کس قدر دنیا سے متنفر تھے اور یاد الہی میں مشغول رہنے کو پسند کرتے تھے یہ خط آپ نے اس وقت کے دستور کے مطابق فارسی زبان میں لکھا تھا اور ذیل میں درج ہے۔حضرت والد مخدوم من سلامت! مراسم غلامانہ و قواعد فدویا نہ بجا آورده، معروض حضرت والا میکند ، چونکہ در میں ایام برای العین سے بینم و پشم سرمشاہدہ میکنم که در همه ممالک و بلاد ہر سال چناں وبائے مے افتد که دوستاں را از دوستاں و خویشان را از خویشاں جُدا میکند۔ویچ سالے نے بینم کہ ایس نائرہ عظیم و چنیں حادثہ الیم در آن سال شور قیامت نیفگند نظر بر آن دل از دنیا سرد شده است ورواز خوفِ جاں زرد و اکثر این دو مصرعہ شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی بیاد می آیند واشک حسرت ریخته میشود مکن تکیه بر عمر نا پائیدار مباش ایمن از بازی روزگار و نیز این دو مصرعہ ثانی از دیوان فرخ ( حضرت اقدس کا ابتدائی ایام کا تخلص ہے ) نمک پاش جراحتِ دل میشود بدنیائے دُوں دل مبند اے جواں کہ وقت اجل مے رسد نا گہاں لہذا می خواہم کہ بقیہ عمر در گوشتہ تنہائی نشینم و دامن از صحبت مردم چینم و بیاد او سبحانه مشغول شوم ، مگر گزشتہ را عذرے و مافات را تدار کے شود عمر بگذشت نماندست جوایا مے چند به که در یاد کسے صبح کنم شامے چند