دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 397

دعوت الامیر — Page 358

(ron) دعوة الامير که دنیا را اسا سے محکم نیست و زندگی را اعتبارے نے۔وَالْكَيْسُ مَنْ خَافَ عَلَى نَفْسِهِ مِنْ أَفَةِ غَيْرِهِ - وَالسَّلام 66 جب آپ کے والد صاحب فوت ہو گئے تو آپ نے تمام کاموں سے قطع تعلق کر لیا۔اور مطالعہ دین اور روزہ داری اور شب بیداری میں اوقات بسر کرنے لگے اور اخبارات اور رسائل کے ذریعے دشمنان اسلام کے حملوں کا جواب دیتے رہے۔اس زمانے میں لوگ ایک ایک پیسے کے لئے لڑتے ہیں مگر آپ نے اپنی گل جائیداد اپنے بڑے بھائی صاحب کے سپر د کر دی۔آپ کے لیے کھانا ان کے گھر سے آجا تا اور جب وہ ضرورت سمجھتے کپڑے بنوا دیتے اور آپ نہ جائیداد کی آمدن کا حصہ لیتے اور نہ اس کا کوئی کام کرتے۔لوگوں کو نماز روزے کی تلقین کرتے تبلیغ اسلام کرتے۔غریبوں مسکینوں کی بھی خبر رکھتے اور تو آپ کے پاس اس وقت کچھ تھا نہیں بھائی کے یہاں سے جو کھانا آتا اُسی کو غرباء میں بانٹ دیتے اور بعض دفعہ دو تین تولہ غذاء پر گزارہ کرتے اور بعض دفعہ یہ بھی باقی نہ رہتی اور فاقہ سے ہی رہ جاتے۔یہ نہیں تھا کہ آپ کی جائیداد معمولی تھی اور آپ سمجھتے تھے کہ گزارہ ہو رہا ہے اس وقت ایک سالم گاؤں آپ اور آپ کے بھائی کا مشترکہ تھا اور علاوہ ازیں جا گیر وغیرہ کی بھی آمدن تھی۔اسی عرصے میں آپ نے اسلام کی نازک حالت دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا و ابتهال و عاجزی شروع کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ پاکر براہین احمدیہ نامی کتاب لکھی جس کے متعلق اعلان کیا کہ اس میں تین سو د لائل صداقتِ اسلام کے دیئے جائیں گے یہ کتاب ہستی باری تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام پر سے اعتراضات کے دفعیہ میں ایک کاری حربہ ثابت ہوئی اور گونامکمل رہی مگر اس شکل میں بھی دوست و دشمن