دعوت الامیر — Page 356
(roy) دعوة الامير کر کے کہ اب تو آپ ملازمت کر چکے ہیں شاید اب ملازمت پر راضی ہوجائیں، پھر آپ کے ملازم کرانے کی کوشش کی مگر آپ ان سے معافی ہی چاہتے رہے۔ہاں یہ دیکھ کر کہ آپ کے والد صاحب مصائب دنیوی میں بہت گھرے ہوئے ہیں ان کے کہنے پر یہ کام اپنے ذمے لے لیا کہ اُن کی طرف سے اُن کے مقدمات کی پیروی کر دیا کریں۔ان مقدمات کے دوران میں آپ کی انابت الی اللہ اور بھی ظاہر ہوئی۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ آپ مقدمے کی پیروی کے لیے گئے اور مقدمے کے پیش ہونے میں دیر ہوگئی ، نماز کا وقت آ گیا ، آپ با وجودلوگوں کے منع کرنے کے نماز کے لیے چلے گئے اور جانے کے بعد ہی مقدمہ کی پیروی کے لیے بلائے گئے مگر آپ عبادت میں مشغول رہے اُس سے فارغ ہوئے تو عدالت میں آئے۔حسب قاعدہ سرکاری چاہئیے تو یہ تھا کہ مجسٹریٹ یکطرفہ ڈگری دے کر آپ کے خلاف فیصلہ سنا دیتا مگر اللہ تعالیٰ کو آپ کی یہ بات ایسی پسند آئی کہ اُس نے مجسٹریٹ کی توجہ کو اس طرف سے پھیر دیا اور اس نے آپ کی غیر حاضری کو نظر انداز کر کے فیصلہ آپ کے والد صاحب کے حق میں کر دیا۔ایک صاحب جو آپ کے بچپن کے دوست تھے سناتے تھے کہ وہ لاہور میں ملازم تھے آپ بھی کسی اہم مقدمے کی پیروی کے لیے جس کی اپیل سب سے اعلیٰ عدالت میں دائر تھی وہاں گئے اور وہ مقدمہ ایسا تھا کہ اس میں ہارنے سے آپ کے والد صاحب کے حقوق اور بالآخر آپ کے حقوق کو سخت صدمہ پہنچتا تھا۔وہ بیان کرتے ہیں کہ جب آپ مقدمے سے واپس آئے تو بہت خوش تھے میں سمجھا کہ آپ مقدمہ جیت گئے ہیں جبھی تو اس قدر خوش ہیں۔میں نے بھی خوشی سے مقدمے میں کامیابی کی مبارک باد دی تو آپ نے فرمایا کہ مقدمے میں تو ہم ہار گئے ہیں۔خوش اس لیے ہیں کہ اب کچھ دن علیحدہ بیٹھ کر ذکر الہی کا موقع ملے گا۔