دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 397

دعوت الامیر — Page 23

(rr) دعوة الامير الہامی ہے کیونکہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے کوئی بات نہیں بیان فرماتے بلکہ جبرائیل علیہ السلام کی بتائی ہوئی بات بتاتے ہیں جو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس سال کی تھی۔پس لوگوں کا یہ خیال کہ آپ بتیس ۳۲ تینتیس ۳۳ سال کی عمر میں آسمان پر اٹھائے گئے تھے غلط ہوا کیونکہ اگر حضرت مسیح “ اس عمر میں آسمان پر اٹھائے گئے تھے تو آپ کی عمر بجائے ایک سو بیس سال کے رسول کریم کے زمانے تک قریباً چھ سو سال کی بنتی ہے اور اس صورت میں چاہئے تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کم سے کم تین سو سال تک عمر پاتے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تریسٹھ سال کی عمر میں فوت ہو جانا اور الہاماً آپ کو بتایا جانا کہ حضرت عیسی علیہ السلام ایک سو بیس سال کی عمر میں فوت ہو گئے ثابت کرتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی اور آسمان پر آپ کا بیٹھا ہونا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے اور آپ کے الہامات اسے رد کرتے ہیں اور جب امر واقع یہ ہے تو ہم لوگ کسی کے کہنے سے کس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کے قائل ہو سکتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ سکتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ تیرہ سو سال کے عرصہ میں صرف انہیں پر کھلا ہے اور پہلے بزرگ اس سے واقف و آگاہ نہ تھے مگر افسوس کہ معترض اپنی نظر کو صرف ایک خاص خیال کے لوگوں تک محدود کر کے اس کا نام اجماع رکھ لیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ اسلام کے اول علماء خود صحابہ نہیں اور بعد ان کے علماء کا سلسلہ نہایت وسیع ہوتا ہوا سب دنیا میں پھیل گیا ہے۔صحابہ کو جب ہم دیکھتے ہیں تو وہ سب بہ یک زبان ہمارے خیال سے متفق ہیں اور یہ ہو بھی کب سکتا تھا کہ وہ عشاق رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی شان کے مزیل عقیدہ کو ایک دم کے لئے بھی تسلیم کرتے وہ اس بارہ میں ہم سے متفق ہی نہیں ہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ