دعوت الامیر — Page 22
(rr) دعوة الامير تو آسمان پر نہ جائیں بلکہ اس زمین پرفوت ہوں اور زمین کے نیچے دفن ہوں لیکن مسیح علیہ السلام آسمان پر چلے جائیں اور ہزاروں سال تک زندہ رہیں۔پھر یہ سوال صرف غیرت ہی کا نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا بھی سوال ہے آپ فرماتے ہیں لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيْسَى حَيَيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِيْ اگر موسی و عیسی زندہ ہوتے تو میری اطاعت کے سوا ان کو کوئی چارہ نہ تھا۔اگر حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو پھر آپ کا یہ قول نَعُوذُ بِالله باطل ہو جاتا ہے کیونکہ آپ لَوْ كَانَ کہہ کر اور موسیٰ“ کے ساتھ عیسی کو ملا کر دونوں نبیوں کی وفات کی خبر دیتے ہیں۔پس نبی کریم کی شہادت کے بعد کس طرح کوئی شخص آپ کی اُمت میں سے کہلا کر یہ یقین رکھ سکتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں اگر وہ زندہ ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور آپ کے علم پر حرف آتا ہے۔کیونکہ آپ تو ان کو وفات یافتہ قرار دیتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے حضرت فاطمہ سے اس مرض میں جس میں آپ فوت ہوئے ، فرمایا کہ اِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَا رِضْنِي الْقُرْآنَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَةٌ وَإِنَّهُ عَارَضَنِي بِالْقُرْآنِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيْ إِلَّا عَاشَ نِصْفَ الَّذِي قَبْلَهُ وَ أَخْبَرَنِي أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَاشَ عِشْرِيْنَ وَمِائَةَ سَنَةٍ وَلَا أَرَانِي إِلَّا ذَاهِبَا عَلَى رَأْسِ السَّيِّينَ (شرح مواهب اللدنيه مؤلفه امام زرقانی جلد ۱ صفحه ۳۵ مطبوعه مصر ۵۱۳۲۵) یعنی جبرائیل ہر سال ایک دفعہ مجھے قرآن سناتے تھے مگر اس دفعہ دو دفعہ سنایا ہے اور مجھے انہوں نے خبر دی ہے کہ کوئی نبی نہیں گزرا کہ جس کی عمر پہلے نبی سے آدھی نہ ہوئی ہو اور یہ بھی انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ عیسی بن مریم ایک سو بیس سال کی عمر تک زندہ رہے تھے۔پس میں سمجھتا ہوں کہ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہوگی۔اس روایت کا مضمون