دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 397

دعوت الامیر — Page 327

۳۲۷ دعوة الامير کے ساتھ کچھ بھی نہیں۔صحیح معنے یہ ہیں کہ ارض مقدسہ میں رہنے کا اُن کو حکم دیا گیا ہے اور پھر یہ کہہ کر جب وَعْدُ الآخِرَةِ آئے گا، تو ہم پھر تم کو اکٹھا کر کے لے آئیں گے اس بات کا اشارہ کیا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم کو یہ جگہ چھوڑنی پڑے گی لیکن وَعْدُ الْآخِرَةِ کے وقت یعنی مسیح موعود کی بعثت ثانیہ کے وقت ہم تم کو پھر اکٹھا کر کے لے آئیں گے، چنانچہ تفسیر فتح البیان میں لکھا ہے۔وَعْدُ الْآخِرَةِ نُزُولُ عِيسَى مِنَ السَّمَاءِ (تفسير فتح البيان مؤلف ابو طیب صدیق بن حسن تفسیر سورۃ بنی اسرائیل زیر آیت فاذاجاء وعد الأخرة “ جلد ۵ صفحه ۳۷۱ مطبوعہ مصر ۱۳۰۱ھ ) اسی سورۃ کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے متعلق دوز مانوں کا ذکر کیا ہے جن میں سے دوسرے زمانے کے متعلق فرماتا ہے۔فَإِذَ اجَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ لِيَسُوءُ وُجُوْهَكُمْ وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَ لِيَتَبَرُوْا مَا عَلَوْا تشير اه (بنی اسرئیل: ۸) پس جب وَعْدُ الْآخِرَةِ آ گیا، تا کہ تمہاری شکلوں کو بگاڑ دیں اور جس طرح پہلی دفعہ مسجد میں داخل ہوئے تھے اس دفعہ بھی مسجد میں داخل ہوں اور جس چیز پر قبضہ پائیں اُسے ہلاک کر دیں۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وَعْدُ الْآخِرَةِ سے مراد وہ زمانہ ہے جو مسیح کے بعد یہود پر آئے گا۔کیونکہ اس وَعْدُ الْآخِرَةِ کے بعد بجائے جمع کئے جانے کے یہود پراگندہ کر دیئے گئے تھے اس لیے ماننا پڑتا ہے کہ دوسری جگہ وغدُ الْآخِرَةِ سے مسیح کے نزولِ ثانی کے بعد کا زمانہ مراد ہے اور جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا سے مراد یہود کا وہ اجتماع ہے جو اسوقت فلسطین میں کیا جارہا ہے کہ وہ ساری دنیا سے اکٹھا کر کے وہاں لا کر بسائے جا رہے ہیں اور حضرت اقدس علیہ السلام کے الہام كَفَفْتُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سے مراد اس مخالفت کا دُور ہونا ہے جو اقوام عالم بنی اسرائیل ( یہود ) سے رکھتی تھیں اور ان کو کوئی قوم گھر بنانے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔