دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 397

دعوت الامیر — Page 328

(FTA) دعوة الامير ایک علامت اس جنگ کے لیے یہ مقرر کی گئی تھی کہ یہ جنگ بہر حال سولہ سال کے اندر ہوگی چنانچہ ایسا ہی ہوا۔۱۹۰۵ء میں اس کے متعلق الہام ہوئے اور ۱۹۱۴ء میں یعنی نو سال کے بعد یہ جنگ شروع ہوگئی۔ایک علامت اس جنگ کی یہ بتائی گئی تھی کہ تمام بیڑے اس وقت تیار رکھے جائیں گے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس جنگ کے دوران میں برسر پیکار قوموں کے علاوہ دوسری حکومتوں کو بھی اپنے بیڑے ہر وقت تیار رکھنے پڑتے تھے تا کہ ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کا بیڑہ اُن کے سمندر میں کوئی نامناسب بات کر بیٹھے اور اُن کو جنگ میں خواہ مخواہ مبتلاء ہونا پڑے اور اس غرض سے بھی تا اپنے حقوق کی حفاظت کریں۔ایک علامت اس جنگ کی یہ بتائی گئی تھی کہ جہاز پانی میں ادھر ادھر چکر لگائیں گے تا ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کریں۔یعنی بحری تیاریاں بھی بڑے زور سے ہوں گی اور تمام سمندروں میں کشتیاں چکر لگاتی پھریں گی۔چنانچہ جس قدر جہازات اس جنگ میں استعمال ہوئے اور جس قدرسمندروں کا پہرا اس جنگ میں دیا گیا ہے اس سے پہلے کبھی اس کی مثال نہیں ملتی۔خصوصاً چھوٹے جہازات یعنی ڈسٹرائروں (Destroyers) اور آبد وز کشتیوں نے اس جنگ میں اتنا حصہ لیا ہے جتنا پہلے کبھی نہیں لیا تھا اور الہام میں گشتیوں کے لفظ سے اسی طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ اس جنگ میں بڑے جہازوں کی نسبت چھوٹے جہازات سے زیادہ کام لیا جائے گا۔ایک نشانی اس آفت کی یہ بتائی گئی تھی کہ وہ اچانک آئے گی۔چنانچہ یہ جنگ بھی ایسی اچانک ہوئی کہ لوگ حیران ہو گئے اور بڑے بڑے مدبروں نے اقرار کیا کہ گووہ ایک جنگ کے منتظر تھے مگر اس قدر جلد اس کے پھوٹ پڑنے کی اُن کو اُمید نہ تھی، آسٹریا