دعوت الامیر — Page 326
(rry) دعوة الامير کا قومی وطن بنانے کے مطالبے کی حمایت کی۔(دی نیو انسائکلو پیڈیا برٹین کا جلد ۱ صفحہ ۷۵۷، (۷۵۸) نے جواب لارڈ بلفور ہیں، اس بات کا اعلان کیا کہ یہودی جو بے وطن پھر رہے ہیں اُن کا قومی گھر یعنی فلسطین ان کو دے دیا جائے گا اور اتحادی حکومتیں اس امر کو بھی اپنا نصب العین بنائیں گی کہ اس جنگ کے بعد وہ بے انصافی جو اُن سے ہوتی چلی آئی ہے دور کر دی جائے ، چنانچہ اس وعدے کے مطابق جنگ کے بعد فلسطین ترکی حکومت سے علیحدہ کر لیا گیا اور یہود کا قومی گھر قرار دے دیا گیا اب وہاں حکومت اس طرز پر چلائی جارہی ہے کہ کسی دن وہاں یہود کا قومی گھر بن سکے، چاروں طرف سے وہاں یہود جمع کئے جارہے ہیں اور اُن کا وہ پرانا مطالبہ پورا کر دیا گیا ہے جو وہ اپنے قومی اجتماع کے متعلق پیش کرتے چلے آرہے تھے۔اس علامت کے متعلق ایک عجیب بات یہ ہے کہ اس کی طرف قرآن کریم نے بھی اشارہ کیا ہے۔سورہ بنی اسرائیل میں آتا ہے۔وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا ( بنی اسرائیل : ۱۰۵) یعنی فرعون کے ہلاک کرنے کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ اس زمین میں رہو۔پھر جب بعد کو آنے والی بات کے وعدے کا وقت آئے گا تو اُس وقت ہم تم سب کو اکٹھا کر کے لے آئیں گے۔بعض مفسرین نے اس الارض (زمین) سے مراد مصر لیا ہے اور بعد کو آنے والی بات کے وعدے سے مراد قیامت لی ہے ، مگر یہ دونوں باتیں درست نہیں کیونکہ بنی اسرئیل کو مصر میں رہنے کا حکم نہیں بلکہ ارض مقدسہ میں رہنے کا حکم ملا تھا اور وہیں وہ رہے، اسی طرح وَعْدُ الْآخِرَةِ سے بھی قیامت مراد نہیں کیونکہ قیامت کا تعلق ارض مقدسہ میں رہنے