دعوت الامیر — Page 282
(۲۸۲ دعوة الامير آزادی پر اور شاہ مظفرالدین اپنی مقبولیت پر خوش ہورہے تھے کہ ۱۹۰۷ ء میں گل پچپی سال کی عمر میں شاہ اس دنیا سے رحلت کر گئے اور ان کا بیٹا مرزا محمد علی تخت نشین ہوا۔گومحمد علی مرزا نے تخت پر بیٹھتے ہی مجلس کے استحکام اور نیابتی حکومت کے دوام کا اعلان کیا لیکن چند ہی دن کے بعد دنیا کو وہ آثار نظر آنے لگے جن کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں دی گئی تھی اور حضرت اقدس علیہ السلام کے الہام کے ایک ہی سال بعد ایران میں فتنہ وفساد کے آثار نظر آنے لگے، بادشاہ اور مجلس میں مخالفت شروع ہو گئی اور مجلس کے مطالبات پر بادشاہ نے لیت و لعل کرنا شروع کر دیا۔آخر مجلس کے زور دینے پر ان افراد کو دربار سے علیحدہ کرنے کا وعدہ کیا جن کو مجلس فتنے کا بانی سمجھتی تھی ، مگر ساتھ ہی تہران سے جانے کا بھی ارادہ کر لیا۔اس تغیر مکانی کے وقت کا سکوں کی فوج جو بادشاہ کی باڈی گارڈ تھی اور قوم پرستوں کے حمایتیوں کے درمیان اختلاف ہو گیا اور الہام ایک رنگ میں اس طرح پورا ہوا کہ ایران کا دار المبعوثین تو پوں سے اُڑا دیا گیا اور بادشاہ نے پارلیمنٹ کو موقوف کر دیا۔بادشاہ کے اس فعل سے ملک میں بغاوت کی عام رو پھیل گئی اور لارستان، لابد جان، اکبر آباد، بوشہر اور شیر از اور تمام جنوبی ایران میں علی الاعلان حکام سلطنت کو برطرف کر کے اُن کی جگہ جمہوریت کے دلدادوں نے حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی، خانہ جنگی شروع ہوگئی اور بادشاہ نے دیکھ لیا کہ حالت نازک ہے خزانہ اور اسباب روس کے ملک میں بھیجنا شروع کر دیا اور پورا زور لگایا کہ بغاوت فرو ہومگر گھٹنے کی بجائے فساد بڑھتا گیا حتی کہ جنوری ۱۹۰۹ ء میں اصفہان کے علاقہ میں بھی بغاوت پھوٹ پڑی اور بختیاری سردار بھی قوم پرستوں کے ساتھ مل گئے اور شاہی فوج کو سخت شکست دی ، بادشاہ نے ڈرکر حکومت نیابتی کی حفاظت کا عہد کیا اور بار بار اعلان کئے کہ وہ استبدادی حکومت کو ہرگز