دعوت الامیر — Page 274
۲۷۴ دعوة الامير صاحب کی طرف سے بھی بیعت کی۔اور پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب لے کر واپس افغانستان کو چلے گئے اور ارادہ کیا کہ پہلے کا بل جائیں تا کہ وہاں اپنے بادشاہ تک بھی اس دعوت کو پہنچا دیں۔ان کے کابل پہنچنے پر بعض کو تاہ اندیش بدخواہانِ حکومت نے امیر عبدالرحمن صاحب کو اُن کے خلاف اکسایا اور کہا کہ یہ شخص مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج اور واجب القتل ہے اور اُن کو دھوکا دیکر ان کے قتل کا فتویٰ حاصل کیا اور نہایت ظالمانہ طور پر ان کو قتل کردیا اور وہ جو اپنے بادشاہ سے اس قدر پیار کرتا تھا کہ پیشتر اس کے کہ اپنے وطن کو جاتا پہلے اپنے بادشاہ کے پاس یہ خوشخبری لے کر پہنچا کہ خدا کا مسیح اور مہدی آ گیا ہے۔اس کی محبت اور اس کے پیار کا اس کو یہ بدلہ دیا گیا کہ اسے گردن میں کپڑا ڈال کر اور دم بند کر کے شہید کر دیا گیا مگر اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ تھا۔اس نے قریب بیس سال پہلے دو وفادار افرا در عایا کی پلاکسی قانون شکنی کے قتل کئے جانے کی خبر دیدی تھی اور اس خبر کو پورا ہو کر رہنا تھا۔سواس قتل کے ذریعے سے ان دو شخصوں میں سے جن کے قتل کی خبر دی گئی تھی ایک قتل ہو گیا۔اس واقعہ کے ایک دو سال کے بعد صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید حج بیت اللہ کے ارادے سے اپنے وطن سے روانہ ہوئے۔چونکہ حضرت اقدس کی بیعت تو کر ہی چکے تھے ارادہ کیا کہ جاتے وقت آپ سے بھی ملتے جائیں۔چنانچہ اس ارادے سے قادیان تشریف لائے مگر یہاں آکر اس سے پہلے جو کتابوں کے ذریعے سے سمجھا تھا بہت کچھ زیادہ دیکھا اور صفائی قلب کی وجہ سے نور الہی کی طرف ایسے جذب کئے گئے کہ حج کے ارادے کو ملتوی کر دیا اور قادیان ہی رہ گئے۔چند ماہ کے بعد واپس وطن کو گئے اور فیصلہ کر لیا کہ اپنے بادشاہ کو بھی اس نعمت میں شریک کروں جو مجھے ملی ہے اور خوست پہنچتے ہی چار خط کا بل کے