دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 397

دعوت الامیر — Page 275

(120) دعوة الامير چار درباریوں کے نام لکھے ان خطوط کے کابل پہنچنے پر جناب کے والد امیر حبیب اللہ خان صاحب (امیر حبیب اللہ خان والی افغانستان اپنے والد عبد الرحمن کی وفات کے بعد یکم اکتوبر ۱۹۰۱ء میں مسند نشین ہوا۔اسی کے عہد میں ڈیورنڈ لائن کا تعین کیا گیا اور برطانیہ نے افغانستان کو آزادی دینے کا وعدہ کیا۔۲۰ فروری ۱۹۱۹ء کو اس نے وادی النگار (Alngar) میں قلعہ السراج (نعمان ) کے قریب گوش میں پڑاؤ ڈال رکھا تھا کہ اسے قتل کر دیا گیا اردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۱ صفحہ ۵۳۷ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۷ء اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد ۷ صفحہ ۸۸۷،۸۸۶ مطبوعہ دانش گاہ پنجاب لاہور ) والئی ریاست کابل کولوگوں نے بھڑ کا یا اور قسم قسم کے جھوٹے اتہام لگا کر ان کو اس بات پر آمادہ کر دیا کہ وہ ان کو پکڑوا کر کابل بلوالیں۔خوست کے گورنر کے نام حکم کیا اور صاحبزادہ عبداللطیف کابل حاضر کئے گئے۔امیر صاحب نے آپ کو ملانوں کے سپرد کیا جنہوں نے کوئی قصور آپ کا ثابت نہ پایا۔مگر بعض لوگوں نے جن کو سلطنت کے مفاد کے مقابلے میں اپنی ذاتی خواہشات کا پورا کرنا زیادہ مد نظر ہوتا ہے امیر حبیب اللہ خان صاحب کو بھڑ کا یا کہ اگر یہ شخص چھوڑ دیا گیا اور لوگوں نے اس کا اثر قبول کر لیا تو لوگوں کے دلوں میں جہاد کا جوش سرد پڑ جائے گا اور حکومت کو نقصان پہنچے گا۔آخر ان کے سنگسار کئے جانے کا فتویٰ دے دیا گیا۔امیر حبیب اللہ خان صاحب نے اپنے نزدیک ان کی خیر خواہی سمجھ کر ان کو کئی دفعہ تو بہ کرنے کے لئے کہا مگر انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں تو اسلام پر ہوں تو بہ کر کے کیا کافر ہو جاؤں ، میں کسی صورت میں بھی اس حق کو نہیں چھوڑ سکتا جسے میں نے سوچ سمجھ کر قبول کیا ہے۔جب اُن کے رجوع سے بالکل مایوسی ہوگئی تو ایک بڑی جماعت کے سامنے ان کو شہر سے باہر لے جا کرسنگسار کر دیا۔یہ وفادار اپنے بادشاہ کا جان شار چند خود غرض اور مطلب پرست سازشیوں کی سازش کا شکار ہوا اور انہوں نے امیر صاحب کو دھوکا دیا کہ اس کا زندہ رہنا ملک کے لیے مضر