دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 397

دعوت الامیر — Page 273

۲۷۳ دعوة الامير جہاں عام ملکی قانون کی اطاعت کرتے ہوئے بھی لوگوں کے غصے اور ناراضگی کے نتیجے میں انسان قتل کئے جاسکتے ہیں۔دوم یہ کہ یہ مقتول منہم کے پیروؤں میں سے ہوں گے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس کو صرف دو مقتولوں کے متعلق خبر دینے کی کوئی وجہ نہ تھی۔تیسری یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ قتل ناواجب ہوگا۔کسی سیاسی مُجرم کے متعلق نہ ہوگا چوتھے یہ کہ اس نا واجب فعل کے بدلے میں اس ملک پر ایک عام تباہی آوے گی۔یہ چاروں باتیں مل کر اے بادشاہ! اس پیشگوئی کو معمولی پیشگوئیوں سے بہت بالا کر دیتی ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ اس میں ملک کی تعیین نہیں اس لیے یہ پیشگوئی مہم ہے ان چاروں باتوں کا یکجاطور پر پورا ہونا پیشگوئی کی عظمت کو ثابت کر دیتا ہے کیونکہ یہ چاروں باتیں اتفاقی طور پر جمع نہیں ہوسکتیں۔اس پیشگوئی کے بعد قریباً بیس سال تک کوئی ایسے آثار نظر نہ آئے جن سے کہ یہ پیشگوئی پوری ہوتی معلوم ہو۔مگر جب کہ قریب ہیں ۲۰ سال اس الہام پر گزر گئے تو ایسے سامان پیدا ہونے لگے جنہوں نے اس پیشگوئی کو حیرت انگیز طور پر پورا کر دیا۔اتفاق ایسا ہوا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بعض کتب کوئی شخص افغانستان میں لے گیا اور وہاں خوست کے ایک عالم سید عبداللطیف صاحب کو جو حکومت افغانستان میں عزت کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے اور بڑے بڑے حکام ان کا تقویٰ اور دیانت دیکھ کر ان سے خلوص رکھتے تھے وہ کتب دیں۔آپ نے ان کتابوں کو پڑھ کر یہ فیصلہ کر لیا کہ حضرت اقدس راستباز اور صادق ہیں اور اپنے ایک شاگرد کو مزید تحقیقات کے لیے بھیجا اور ساتھ ہی اجازت دی کہ وہ اُن کی طرف سے بیعت بھی کر آئے۔اس شاگرد کا نام مولوی عبد الرحمن تھا۔انہوں نے قادیان آکر خود بھی بیعت کی اور مولوی عبد اللطیف