دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 397

دعوت الامیر — Page 269

(ra) دعوة الامير معارف جدیدہ پر پر مشتمل دونوں لکھیں پھر دیکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ کس فریق کی مدد کرتا ہے مگر باوجود بار بار پکارنے کے کوئی مقابلے پر نہ آیا۔اور آتا بھی کیونکر؟ کیونکہ آپ کا مقابلہ تو الگ رہا، علوم قرآن میں آپ کے خدام کا بھی کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا اور قرآنِ کریم گو یا اس وقت صرف ہمارا ہی ہے۔اس مضمون کے ختم کرنے سے پہلے میں آپ کی ایک فارسی نظم قرآن کریم کے متعلق درج کرتا ہوں جس میں آپ نے علوم قرآنیہ کے متعلق لوگوں کو تو جہ دلائی ہے از نور پاک قرآن صبح صفا دمیده بر غنچہ ہائے دلہا بادِ صبا وزیده ایس روشنی و لمعاں شمس الضحی ندارد و این دلبری و خوبی کس در قمر ندیده یوسف بقعر چاه محبوس ماند تنہا وایں یوسفے که تن با از چاه برکشیده از مشرق معانی صدہا دقائق آورد قدِ ہلال نازک زاں ناز کی خمیده کیفیت علومش دانی چه شان دارد؟ شہد لیست آسمانی از وحی حق چکیده آں غیر صداقت چوں کو بعائم آور ہر بوم شب پرستی در گنج خود خزیده روئے یقین نہ بیند ہرگز کسے بدنیا الا کسی که باشد با رویش آرمیده آن کس که عالمش شد ، شد مخزن معارف واں بے خبر ز عالم کیں عالمے ندیدہ بارانِ فضل رحمن ، آمد بمقدم او بد قسمت آنکه، از وے سوئے دگر دویده میل بدی نباشد، الا رگے ز شیطان آن را بشر بدانم، کز ہر شرے رہیدہ اے کانِ دلربائی ، دانم که از کجائی تو نور آں خدائی، کیں خلق آفریدہ میلم نماند باکس محبوب من کوئی بس زیرا که زاں فغاں رس نورت بما رسیده ( براھین احمد یہ چہار حصص۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۰۴-۳۰۵)