دعوت الامیر — Page 268
(PTA) دعوة الامير کئے ، اس علم کے ذریعے سے آپ نے حفاظت اسلام کے کام کو آسان کر دیا کیونکہ ہر ایک بات جو مفصل میں سے انسان کی سمجھ میں نہ آئے وہ اس مجمل پر نگاہ کر کے اس کو سمجھ سکتا ہے اور صرف اسی سورۃ کو لے کر تمام دنیا کے ادیان کا مقابلہ کر سکتا ہے اور کل مدارج روحانی کو معلوم کر سکتا ہے۔یہ تو بعض امثلہ اصولی علوم کی میں نے بیان کی ہیں ان کے علاوہ بارھواں علم قرآن کریم کے متعلق آپ کو تفصیلی دیا گیا ہے جس کے مطابق مختلف آیات کے تراجم اور ان کے معارف جو آپ نے بیان کئے ہیں اور ضروریاتِ زمانہ کے متعلق جو ہدایات آپ نے قرآن کریم سے اخذ کی ہیں، ان کو اگر بیان کیا جائے تو اس کے لئے کئی مجدد کتابیں چاہئیں ، ان علوم کے چشموں نے ثابت کر دیا ہے کہ آپ کا اُس مبدا فیض سے خاص تعلق ہے جو علیم ہے اور جس کی نسبت آتا ہے۔وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ (البقرة: ۲۵۶) کیونکہ انسان کی طاقت سے بالکل باہر ہے کہ وہ ایسے علوم کو اپنی عقل سے دریافت کر سکے۔آپ کے بتائے ہوئے علوم اور اصول کے مطابق جب ہم قرآن کریم پڑھتے ہیں تو اس کے اندر علوم کے سمندر موجیں مارتے ہوئے نظر آتے ہیں جن کا کنارہ نظر نہیں آتا۔آپ نے آیت لَا يَمَسُّةَ إِلا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة :۸۰) کے مضمون کی طرف توجہ دلا کر بار بار اپنے مخالفوں کو توجہ دلائی کہ اگر آپ لوگوں کے خیالات کے مطابق میں جھوٹا ہوں تو پھر وجہ کیا ہے کہ ایسے بار یک در بار یک علم مجھے عطا کئے جاتے ہیں اور اپنے مخالفوں کو بار بار دعوت مقابلہ دی کہ اگر تم میں سے کوئی عالم یا شیخ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے تو میرے مقابلے پر علوم قرآن کو ظاہر کرے اور ایسا کیا جائے کہ ایک جگہ ایک ثالث شخص بطور قرعہ اندازی قرآن کریم کا کوئی حصہ نکال کر دونوں کو دے اور اس کی تفسیر