دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 397

دعوت الامیر — Page 270

(12۔) دعوة الامير دسویں دلیل دسویں دلیل آپ کی صداقت کی کہ وہ بھی درحقیقت سینکڑوں بلکہ ہزاروں دلائل پر مشتمل ہے یہ ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے نہایت کثرت سے اپنے غیب پر مطلع کیا تھا۔پس معلوم ہوا کہ آپ خدا کے فرستادہ تھے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ ( الجن : ۲۷۔۲۸) یعنی وہ غیب پر کثرت سے اطلاع نہیں دیتا مگر اپنے رسولوں کو (أظْهَرَ عَلَيْهِ کے معنے ہیں اُس کو اُس پر غلبہ دیا ) پس جس شخص کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع ملے اور اس پر وحی مصفی پانی کی طرح ہو جو ہر قسم کی کدورت سے پاک ہو اور روشن نشان اُس کو دیئے جاویں اور عظیم الشان امور سے قبل از وقت اُسے آگاہ کیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کا مامور ہے اور اس کا انکار کرنا گویا قرآن کریم کا انکار کرنا ہے جس نے یہ قاعدہ بیان فرمایا ہے اور سب نبیوں کا انکار کرنا ہے جنہوں نے اپنی صداقت کے ثبوت میں ہمیشہ اس امر کو پیش کیا ہے۔چنانچہ بائیل میں بھی آتا ہے کہ جھوٹے نبی کی علامت ہے کہ جو بات وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہے وہ پوری نہ ہو۔(استثناء باب ۱۸ آیت ۲۲ ، بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۹۴ء) اس معیار کے ماتحت جب ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کو دیکھتے ہیں تو آپ کی سچائی ایسے دن کی طرح نظر آتی ہے جس کا سورج نصف النہار پر ہو۔آپ پر اللہ تعالیٰ نے اس کثرت اور اس تواتر کے ساتھ غیب کی خبریں ظاہر کیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی نبی کی پیشگوئیوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی بلکہ سچ یہ ہے کہ ان کی تعداد اسقدر بڑھی ہوئی ہے کہ اگر ان کو تقسیم کیا جائے تو کئی نبیوں کی نبوت ان