دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 397

دعوت الامیر — Page 262

دعوة الامير ذکر ہے جو ثابت کر رہی ہیں کہ اسی دنیا میں یہ سب کچھ ہونے والا ہے جیسے وَالَّيلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ التكوير: ۱۸-۱۹) اور رات کی قسم جب وہ جاتی رہے گی اور صبح کی قسم جب وہ سانس لے گی یعنی طلوع ہونے لگے گی اور جبکہ شروع میں إِذَا الشَّمْسُ كُوّرَتْ آچکا ہے اگر اس سورۃ میں قیامت کا ہی ذکر ہو تو سورج کے لیٹے جانے کے بعد رات کس طرح چلی جائے گی اور صبح کس طرح نمودار ہونے لگے گی ،غرض ان باتوں کا جو اس سورۃ میں بیان ہوئی ہیں قیامت کے ساتھ کچھ بھی تعلق نہیں ، ہاں اس زمانے کے حالات کے یہ بالکل مطابق ہیں اور گویا اس وقت کا پورا نقشہ ان میں کھینچ دیا گیا ہے پس در حقیقت اس زمانے کی خرابیوں اور مادی ترقیوں اور گناہوں کی کثرت اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کی اس سورۃ میں خبر دی گئی تھی، جس کو پڑھ کر مومن کا ایمان تازہ ہوتا ہے اور سب شکوک وشبہات ہو ا ہو جاتے ہیں۔یہ ایک مثال میں نے ان اخبار کی دی ہے جو اس زمانے کے متعلق قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں اور جن کو حضرت اقدس نے خود بیان فرمایا ہے یا جن کو آپ کے بتائے ہوئے اصول کے ماتحت آپ کے خدام نے قرآن کریم سے اخذ کیا ہے ورنہ اس زمانے کے مفاسد اور حالات کی خبریں اور اُن کے علاج قرآن کریم میں اس کثرت سے بیان ہوئے ہیں کہ ان کو دیکھ کر سخت سے سخت دشمن بھی یہ اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے جس سے ماضی، حال اور مستقبل کسی زمانے کے بھی حالات پوشیدہ نہیں مگر ان کے بیان کرنے سے اصل مضمون رہ جائے گا اور یہ مکتوب بہت زیادہ لمبا ہو جائے گا۔دوسرا اصولی علم جو قرآن کریم کے متعلق آپ کو دیا گیا یہ ہے کہ قرآن کریم میں کوئی