دعوت الامیر — Page 226
۲۲۶ دعوة الامير کوئی شخص بھی نہیں جانتا تھا مگر اس کے بعد باوجودلوگوں کی مخالفت کے آپ کو وہ عزت اور رتبہ حاصل ہوا کہ دشمن بھی اب آپ کی عزت کرتے ہیں اور آپ ایک مسلم لیڈر تسلیم کئے جاتے ہیں۔گورنمنٹ برطانیہ جو ابتداء آپ کی مخالف تھی اور آپ سے بدظن تھی آپ کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔دنیا کے دور کناروں تک آپ کا نام پھیلا ہے اور اس قسم کا عشق رکھنے والے اور محبت رکھنے والے لوگ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائے ہیں کہ وہ اپنی جان تک آپ پر قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اور یورپین جو اسلام کے دشمن تھے انہوں نے آپ کے ذریعے سے اسلام کو قبول کیا ہے اور آپ کی محبت میں اسقدر سرشار ہیں کہ ان میں سے ایک شخص نے مجھے لکھا ہے کہ مجھ پر مرزا صاحب نے احسان کیا کہ ان کے ذریعے سے مجھے اسلام جیسی نعمت عطا ہوئی ہے اس کا اثر مجھ پر اس قدر ہے کہ میں سوتا نہیں جب تک آنحضرت کے ساتھ آپ پر بھی درود نہیں بھیج لیتا۔یہ عزت اور یہ احترام اور یہ محبت باوجود لوگوں کی استقدر مخالفت کے کبھی حاصل نہیں ہوسکتی اگر آپ مفتری علی اللہ تھے۔آپ نے جب دعوی کیا تو آپ اکیلے تھے، لیکن باجود اس کے کہ مولویوں، پیروں ، گدی نشینوں، پنڈتوں، پادریوں ، امیروں ، عام لوگوں اور شروع شروع میں حکام نے بھی اپنا زور لگایا کہ لوگ آپ کی بات کو نہ مانیں اور آپ کے سلسلے میں داخل نہ ہوں۔ایک ایک کر کے لوگ آپ کے سلسلہ میں داخل ہونے شروع ہوئے۔غرباء میں سے بھی، اور امراء میں سے بھی ، علماء میں سے بھی اور صوفیاء میں سے بھی۔مسلمانوں میں سے بھی اور ہندوؤں اور عیسائیوں میں سے بھی، ہندوستانیوں میں سے بھی اور دوسرے ممالک کے لوگوں میں سے بھی ، یہاں تک کہ آپ کی وفات کے وقت آپ کی جماعت ہزاروں