دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 397

دعوت الامیر — Page 225

۲۲۵ دعوة الامير پس یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ چونکہ آپ کے خیالات رائج الوقت یا آئندہ رواج پانے والے خیالات کی ترجمانی کرتے تھے اس وجہ سے مقبول ہوئے۔خلاصہ کلام یہ کہ نہ تو آپ کی ذاتی حالت ایسی تھی کہ آپ کا دعویٰ قبول کیا جاتا نہ آپ کا راستہ پھولوں کی سیج پر سے تھا کہ آپ کو اپنے مطلب میں کامیابی حاصل ہوتی اور نہ وہ خیالات جو آپ لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے ایسے تھے کہ ان سے لوگوں کے خیالات کی ترجمانی ہوتی ہو کہ لوگ آپ کو مان لیں۔پس باوجود ان تمام مخالف حالات کے اگر آپ نے کامیابی حاصل کی تو یہ ایک خدائی فعل تھا نہ کہ دنیاوی اور طبعی سامانوں کا نتیجہ۔ان حالات کے بیان کرنے کے بعد میں آپ کی کامیابیوں کا ذکر کرتا ہوں۔میں بتا چکا ہوں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت بیان فرمائی ہے کہ وہ جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنے والے کو لمبی مہلت نہیں دیا کرتا ، مگر آپ کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ان الہامات کے شائع کرنے کے بعد جن میں آپ نے مصلح ہونے کا اعلان کیا تھا قریباً چالیس سال زندہ رہے اور ہر طرح اللہ تعالیٰ سے مدد ونصرت پاتے رہے۔اگر مفتری علی اللہ بھی اس قدر مہلت پاسکتا ہے اور ہلاکت سے بچایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے نصرت پاتا ہے تو پھر نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِکَ یہ ماننا پڑے گا کہ وَلَوْ تَقَولَ والی آیت میں جو معیار بتایا گیا ہے وہ غلط ہے اور یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دعوی بے ثبوت رہا ہے۔اگر یہ بات نہیں اور ہر گز نہیں تو پھر اسی دلیل کے ماتحت حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنے الہامات شائع کرنے کے اس قدر عرصہ بعد تک ہلاکت سے بچایا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھے۔جس وقت آپ نے اپنے الہامات شائع کئے تھے اس وقت آپ کا نام دنیا میں