دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 397

دعوت الامیر — Page 227

(۲۲۷) دعوة الامير سے نکل کر لاکھوں تک ترقی کر چکی تھی اور اب تک برابر ترقی کرتی چلی جارہی ہے حتی کہ خود آپ کی مملکت (افغانستان ) میں بھی باوجود اس کے کہ اس سلسلے کے دو مخلص آدمی صرف مذہبی اختلاف کی بناء پر ملانوں کی دھوکا دہی کی وجہ سے قتل کئے گئے تھے یہ جماعت ترقی کر رہی ہے اور قریباً ہر صوبہ میں اس جماعت کے کچھ نہ کچھ آدمی پائے جاتے ہیں اور علاوہ ازیں اس جماعت کے لوگ عرب میں بھی ہیں، ایران میں بھی ہیں، روس میں بھی ہیں ، امریکہ میں بھی ہیں، مغربی، شمالی اور جنوبی علاقہ جات ، افریقہ میں بھی ہیں، آسٹریلیاء میں بھی ہیں اور یورپ میں بھی ہیں ، ایک محکوم قوم کے ایک فرد کی اطاعت میں حاکم قوم کے افراد کا آجانا اور پھر اس دین کو مان کر جس کے خلاف نسلاً بعد نسل ان کے دلوں میں تعصب بٹھا یا گیا تھا بلا نصرت الہی کے نہیں ہو سکتا۔آپ کو لوگوں نے قتل بھی کرنا چاہا، زہر سے بھی مارنا چاہا، عدالتوں میں بھی آپ کو گھسیٹا اور جھوٹے مقدمات بھی آپ پر قائم کئے اور عیسائی اور ہندو اور مسلمان سب آپس میں مل گئے تاکہ پہلے مسیح کی طرح دوسرے مسیح کو بھی صلیب پر لٹکا دیں لیکن ہر دفعہ آپ کامیاب ہوئے اور ہر حملہ سے آپ محفوظ رہے روز بروز خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت بڑھتی گئی۔آپ اشاعت اسلام اور تجدید اسلام کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ان دونوں کاموں کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخلصوں کی ایک جماعت دی ، مال بھی دیا حتی کہ اس وقت چار پانچ لاکھ روپیہ سلسلہ کی طرف سے سالانہ دینی کاموں پر صرف ہوتا ہے۔کئی اخبارات اشاعتِ اسلام کے لئے پنجاب، بنگال، سیلون ، ماریشس اور امریکہ سے جاری ہیں اور سینکڑوں کتابیں آپ کی تائید میں لکھی گئی ہیں۔لوگوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ آپ کی