دعوت الامیر — Page 202
۲۰۲ دعوة الامير چوتھا رکن اسلام کا انبیاء پر ایمان لانا ہے اس رکن پر بھی حقیقت سے دور اور روحانیت سے عاری مسلمانوں نے عجیب عجیب رنگ آمیزیاں کر دی تھیں اور اس کی شکل کو نہ صرف بدل دیا تھا بلکہ اُس کی شکل ایسی بد نما کر کے دکھائی تھی کہ اپنوں کے دل نبیوں کی محبت سے خالی ہو گئے تھے اور دوسروں کے دل اُن سے نفرت کرنے لگے تھے اور سچ یہ ہے کہ جس قدر گالیاں اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی جارہی ہیں ان کے ذمہ دار یہ مسلمان کہلانے والے لوگ ہیں نہ کوئی اور مسیحی اور دوسرے مخالفین اسلام اس قدرا اپنی طرف سے جھوٹ بنا بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض نہیں کرتے جس قدر کہ ان روایات کی بناء پر اعتراض کرتے ہیں، جو خود مسلمانوں سے مروی ہیں اور جن کو مسلمانوں نے تسلیم کر لیا ہے اور جن کو بطور لطائف کے وہ اپنی مجالس میں بیان کرتے ہیں اور اپنے منبروں پر جن کا ذکر کرتے ہیں ، آہ! ایک باغیرت مسلمان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ ایک مسلمان ہی کی تیار کردہ تلوار سے سرور انبیاء محمد مصطفی " کے تقویٰ کی چادر کو ایک دشمن اسلام خاک برسرش اپنے زعم باطل میں چاک کر رہا ہے۔درحقیقت تو وہ خود اس منافق کے نفاق کو کھول رہا ہوتا ہے، مگر ظاہر سمجھا جاتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے عیوب کو ظاہر کر رہا ہے۔نبی دنیا میں اس لئے آتے ہیں کہ نیکی اور تقویٰ کو قائم کریں اور ہدایت کو جاری کریں مگر مسلمانوں نے فیج آغوج کے زمانہ میں نبیوں کی طرف وہ عیب منسوب کر دیئے ہیں جن کو سنکر اور پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔آدم علیہ السلام سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک ہر ایک نبی کے انہوں نے گناہ گنوائے ہیں، آدم کو گنہ گار ثابت کیا ہے کہ انہوں نے صاف اور واضح احکام الہیہ کو پس پشت ڈال دیا تھا، نوح علیہ السلام کو گنہگا رثابت کیا