دعوت الامیر — Page 201
(r۔) دعوة الامير کو بے ترتیب قرار دیا ہے یا مختلف واقعات و مضامین کا مجموعہ سمجھا ہے انہوں نے درحقیقت اس بے نظیر کتاب کے معارف سے کوئی حصہ نہیں پایا اور اپنی جہالت پر نازاں ہو گئے اور اپنی کم علمی پر توکل کر بیٹھے ہیں، ان کا خیال بالکل غلط اور باطل ہے اور آپ نے قرآن کے مضامین کی ترتیب کو مثالوں سے ثابت کیا اور دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔آپ نے اس خیال کو بھی اپنے تجربے اور مشاہدے اور دلائل سے رڈ کیا کہ اب اللہ تعالیٰ کلام نہیں کرتا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی صفت معطل نہیں جبکہ وہ پہلے کی طرح اب بھی دیکھتا اور سنتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ اب بولنے سے رک گیا ہے۔شریعت اور چیز ہے اور خالی وجی اور چیز ہے وحی تو اس کی رضاء کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے اس کے بند ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہیں بند ہوگئیں اللہ کا کلام کبھی منقطع نہیں ہوسکتا۔جب تک انسان دنیا میں موجود ہے اور جب تک انسانوں میں سے بعض اللہ تعالیٰ کی رضاء کے حصول کے لئے سچے دل سے کوشاں ہیں اور اسلام کی تعلیم پر عامل ہیں اس وقت تک کلام الہی نازل ہوتار ہے گا۔غرض كُتب سماویہ اور کلام الہی کے متعلق جس قدر غلط فہمیاں لوگوں میں پھیلی ہوئی تھیں اور جن کی وجہ سے یہ رکن ایمان بالکل منہدم ہو چکا تھا اُن کو آپ نے دُور کیا اور پھر اس رُکن کو اصل بنیادوں پر قائم کیا اور اللہ کے کلام کی اصل عظمت اور حقیقت کو ثابت کر کے طبائع کو اس کی طرف مائل کیا اور اس کی روشنی کو ان پردوں کے نیچے سے نکالا ، جو اس پر مسلمانوں نے اپنی نادانی کے سبب سے ڈال رکھے تھے اور غیر اقوام بھی قرآن کریم کے نور کو دیکھ کر حیران رہ گئیں ، بلکہ لوگ اس کے نور کی چمک سے اپنی آنکھیں نہیں کھول سکتے۔